وفاقی بجٹ کا حجم ساڑھے 17 ہزار ارب روپے کے قریب، 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز متوقع
اسلام آباد: آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ کی تیاری آخری مراحل میں داخل ہو گئی ہے، جبکہ حکومت اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان بجٹ مذاکرات بھی مکمل ہو چکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق نئے مالی سال کے لیے وفاقی بجٹ کا مجموعی حجم تقریباً ساڑھے 17 ہزار ارب روپے رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ بجٹ کے اہم مالیاتی اہداف اور پالیسی امور طے پا چکے ہیں۔ تاہم تنخواہ دار طبقے کو ممکنہ ریلیف دینے کے حوالے سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور آئی ایم ایف کے درمیان ورچوئل سطح پر مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تقریباً 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز متعارف کرائے جانے کا امکان ہے۔ حکومت محصولات میں اضافے اور مالیاتی اہداف کے حصول کے لیے مختلف شعبوں میں نئے اقدامات کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس سلیبز میں ردوبدل کی تجویز بھی زیر غور ہے تاکہ متوسط آمدنی رکھنے والے افراد کو کچھ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
ایف بی آر ذرائع کے مطابق تنخواہ دار طبقے کے لیے آخری ٹیکس سلیب کی حد (Threshold) بڑھانے کی تجویز بھی شامل ہے، جس سے زیادہ آمدنی والے ملازمین کے ٹیکس ڈھانچے میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم متعارف کرانے اور ہائبرڈ و الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس میں اضافے کے اقدامات بھی تقریباً حتمی شکل اختیار کر چکے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ایف بی آر کو محصولات کے مقررہ اہداف حاصل کرنے کے لیے اضافی ٹیکس وصولیوں کی ضرورت ہے، اسی مقصد کے تحت بجٹ میں مختلف شعبوں سے مزید ریونیو اکٹھا کرنے کی تجاویز شامل کی جا رہی ہیں۔ توقع ہے کہ نئے بجٹ میں مالی نظم و ضبط، محصولات میں اضافہ اور معاشی استحکام کے اہداف کو خصوصی اہمیت دی جائے گی۔








