ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو منصوبہ، جے آئی ٹی کی رپورٹ آگئی، احسن اقبال

ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو منصوبہ، جے آئی ٹی کی رپورٹ آگئی، احسن اقبال

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو منصوبے سے متعلق اہم پیش رفت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ منصوبے کی تحقیقات کے لیے قائم مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ آگئی ہے۔

احسن اقبال کے مطابق ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو منصوبے کے معاملے کا جائزہ لینے کے لیے تحقیقاتی عمل مکمل کرلیا گیا ہے اور جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ پیش کردی ہے۔ اس پیش رفت کو منصوبے سے متعلق جاری قانونی، مالی اور انتظامی معاملات کے حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ اسلام آباد میں واقع ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو منصوبہ گزشتہ کچھ عرصے سے مختلف تنازعات اور قانونی پیچیدگیوں کا شکار ہے۔ منصوبے کے پلاٹ کی لیز، واجبات کی عدم ادائیگی، تعمیراتی سرگرمیوں اور اپارٹمنٹس کی فروخت سے متعلق معاملات پر سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے جون 2026 میں اس معاملے کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کی ہدایت کی تھی۔ جے آئی ٹی کی سربراہی قومی احتساب بیورو (نیب) کے افسر کو سونپی گئی تھی، جبکہ ٹیم میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)، سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی)، انٹیلی جنس بیورو اور آئی ایس آئی کے نمائندے شامل کیے گئے تھے۔

تحقیقاتی ٹیم کو منصوبے سے متعلق قانونی، مالی اور انتظامی معاملات کا جائزہ لینے اور 60 روز میں اپنی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔

منصوبے کا تنازعہ مالی واجبات کی ادائیگی سے بھی جڑا ہوا ہے۔ دستیاب سابقہ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے 2019 میں منصوبے کے لیے 17.5 ارب روپے کی ادائیگی کا حکم دیا تھا، تاہم اس رقم کی مکمل ادائیگی نہ ہونے پر معاملہ مزید قانونی کارروائی تک پہنچا۔

دوسری جانب منصوبے میں اپارٹمنٹس خریدنے والے شہریوں کے حقوق اور ان کی سرمایہ کاری کا تحفظ بھی اہم معاملہ ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس منصوبے سے متعلق مختلف درخواستیں زیر سماعت رہی ہیں۔

جے آئی ٹی رپورٹ سامنے آنے کے بعد اب اس کے نتائج، سفارشات اور ممکنہ قانونی و انتظامی اقدامات پر توجہ مرکوز ہے۔ تاہم رپورٹ کی تفصیلی سفارشات اور حتمی نتائج کی مکمل تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔

More News