پانی روکنے کی کوشش کی گئی تو قومی قیادت مؤثر جواب دینے کیلئے پر عزم ہے، وزیراطلاعات

بھارت پانی روکنے کی کوشش کرے تو مؤثر جواب دیں گے، عطاتارڑ

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ اگر بھارت نے پاکستان کا پانی روکنے کی کوشش کی تو قومی قیادت مؤثر جواب دینے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے سے متعلق بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کی کوشش نے اسے عالمی فورمز پر سبکی سے دوچار کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ باہمی رضامندی سے طے پانے والے اس معاہدے میں کسی بھی قسم کی تبدیلی صرف دونوں ممالک کے اتفاق رائے سے ہی ممکن ہے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان ہر صورت سندھ طاس معاہدے کے تقدس اور اس پر مکمل عملدرآمد کا تحفظ کرے گا۔ ان کے مطابق اگر پاکستان کے پانی کو روکنے یا اسے بطور دباؤ استعمال کرنے کی کوشش کی گئی تو قومی قیادت اس کا مؤثر جواب دینے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ پانی تنازع کا نہیں بلکہ تعاون کا ذریعہ ہونا چاہیے، جبکہ معاہدوں کی پاسداری ہی اقوام کے درمیان اعتماد اور عالمی نظام کے استحکام کی بنیاد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پانی کو ہتھیار بنانا علاقائی اور عالمی امن کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔

عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان کے عوام کا دریائے سندھ کے پانی پر مکمل حق ہے۔ گلگت بلتستان سے پنجاب اور سندھ تک دریائے سندھ صدیوں سے زندگی، زراعت اور تہذیب کا سرچشمہ رہا ہے، جبکہ پاکستان کی معیشت کا بنیادی ستون زراعت ہے اور دریائے سندھ اس کی شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ 1960 کا سندھ طاس معاہدہ بین الاقوامی تعلقات کی تاریخ میں ایک منفرد اور پائیدار آبی معاہدہ ہے، جس پر پاکستان نے ہمیشہ خلوص نیت سے عملدرآمد اور پرامن روابط کے فروغ کی پالیسی اختیار کی ہے۔

More News