پشاور میں احتجاج اور ہنگامہ آرائی سے نمٹنے کے لیے پولیس کی آپریشنل ہدایات جاری
پشاور: پولیس نے شہر میں ہنگامہ آرائی اور احتجاجی مظاہروں سے نمٹنے کے لیے آپریشنل ہدایات جاری کر دی ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے قانون کے مطابق اقدامات کیے جائیں گے۔ پولیس نے واضح کیا ہے کہ امن و امان خراب کرنے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والے عناصر کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
پولیس کی جانب سے جاری آپریشنل ہدایات کا مقصد احتجاجی مظاہروں کے دوران امن و امان برقرار رکھنا، عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا اور کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹنا ہے۔ حکام کے مطابق مظاہروں کے دوران قانون کی عمل داری برقرار رکھنے کے لیے متعلقہ اہلکاروں کو ضروری ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
پشاور میں احتجاجی سرگرمیوں کے دوران امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنا پولیس کی اہم ذمہ داری ہے۔ اس حوالے سے پولیس نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی فرد یا گروہ کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اگر احتجاج کے دوران توڑ پھوڑ، ہنگامہ آرائی یا امن و امان میں خلل ڈالنے کی کوشش کی گئی تو ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
پولیس کے مطابق احتجاج اور مظاہروں کے دوران عوامی املاک کے تحفظ اور شہریوں کی معمول کی سرگرمیوں کو برقرار رکھنے کے لیے بھی اقدامات اہم ہیں۔ شہریوں کو چاہیے کہ وہ قانون کی پابندی کریں اور کسی بھی ایسی سرگرمی سے گریز کریں جس سے دوسروں کے لیے مشکلات پیدا ہوں یا امن و امان کی صورتحال متاثر ہو۔
دوسری جانب احتجاج کرنے والے شہریوں کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے مطالبات پرامن انداز میں پیش کریں اور قانونی حدود کا خیال رکھیں۔ پرامن احتجاج شہریوں کا حق ہے، تاہم اس دوران تشدد، توڑ پھوڑ یا دیگر غیر قانونی سرگرمیوں سے گریز کرنا ضروری ہے۔
پولیس حکام نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ شہر میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ شہریوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال میں ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔
پولیس کی جانب سے جاری کردہ ان آپریشنل ہدایات پر عمل درآمد کے ذریعے احتجاجی مظاہروں کے دوران ممکنہ کشیدگی کو قابو میں رکھنے اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ تاہم مزید تفصیلات، تعیناتیوں یا مخصوص مقامات سے متعلق معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔








