پنجاب میں کینسر کے 5 ہزار سے زائد مریض مفت ادویات سے محروم، دو ماہ سے مشکلات کا سامنا
پنجاب میں کینسر کے ہزاروں مریضوں کو سرکاری پروگرام کے تحت مفت ادویات کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے، جہاں مختلف ادویات کی قلت کے باعث پانچ ہزار سے زائد مریض گزشتہ دو ماہ سے پریشانی میں مبتلا ہیں۔
تفصیلات کے مطابق سرکاری پروگرام کے تحت کینسر کے مریضوں کو مفت ادویات فراہم کی جاتی ہیں، تاہم ادویات کی عدم دستیابی نے مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو شدید مشکلات سے دوچار کردیا ہے۔ متاثرہ مریضوں میں خون کے کینسر میں مبتلا افراد بھی شامل ہیں، جنہیں علاج جاری رکھنے کے لیے مخصوص ادویات کی ضرورت ہوتی ہے۔
ذرائع کے مطابق خون کے کینسر کے علاج میں استعمال ہونے والی دوا نائیلٹونب (Nilotinib) سمیت دیگر ضروری ادویات کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔ اس صورتحال کے باعث پانچ ہزار سے زائد مریض گزشتہ دو ماہ سے اپنی مطلوبہ ادویات کے حصول کے لیے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا مریضوں کے لیے علاج میں تسلسل انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ ادویات کی عدم دستیابی کے باعث مریضوں اور ان کے اہل خانہ میں تشویش پائی جاتی ہے، جبکہ بعض خاندانوں کے لیے مہنگی ادویات بازار سے خریدنا بھی ممکن نہیں ہوتا۔
متاثرہ مریضوں کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ سرکاری پروگرام کے ذریعے مفت ادویات کی فراہمی ان کے لیے علاج جاری رکھنے کا اہم ذریعہ ہے، تاہم سپلائی متاثر ہونے سے انہیں شدید مالی اور ذہنی دباؤ کا سامنا ہے۔
صحت کے شعبے سے وابستہ حلقوں کے مطابق کینسر کے مریضوں کو ضروری ادویات کی بروقت فراہمی یقینی بنانا حکومت کی اہم ذمہ داری ہے۔ متعلقہ حکام کو چاہیے کہ ادویات کی قلت دور کرنے اور متاثرہ مریضوں کو فوری ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کریں۔
پانچ ہزار سے زائد مریضوں کی مشکلات نے سرکاری صحت پروگرام کے تحت ادویات کی فراہمی اور سپلائی کے نظام پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔








