پوتن کا کثیر قطبی عالمی نظام پر زور، یورپی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنا دیا

پوتن کا کثیر قطبی عالمی نظام پر زور، یورپی پالیسیوں پر سخت تنقید

ویب ڈیسک: روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ دنیا ایک نئے کثیر قطبی عالمی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں خودمختاری، قومی مفادات اور باہمی احترام پر مبنی تعاون ہی عالمی ترقی کی ضمانت بن سکتا ہے۔ انہوں نے یورپی یونین کی موجودہ پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یورپی قیادت کی “قلیل نظری” نہ صرف یورپ کی اقتصادی پوزیشن کو کمزور کر رہی ہے بلکہ عالمی سلامتی کے لیے بھی خطرات پیدا کر رہی ہے۔

سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم (SPIEF) کے مرکزی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر پوتن نے کہا کہ عالمی معیشت اس وقت ایک گہری ساختی تبدیلی سے گزر رہی ہے اور دنیا محض ایک اقتصادی مرحلے سے دوسرے مرحلے میں منتقل نہیں ہو رہی بلکہ عالمی ترقی کا مکمل ماڈل تبدیل ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق اب طاقت کا مرکز مغرب سے ہٹ کر مختلف خطوں میں منتقل ہو رہا ہے۔

انہوں نے برکس ممالک کو عالمی معیشت میں ابھرتے ہوئے اہم مراکز قرار دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں عالمی اقتصادی ترقی میں ان کا حصہ تقریباً 49 فیصد رہا ہے، جبکہ جی سیون ممالک کا حصہ 18 فیصد کے قریب رہ گیا ہے۔ ان کے مطابق برکس ممالک کے درمیان سالانہ تجارتی حجم ایک کھرب ڈالر سے بھی تجاوز کر چکا ہے، جو اس اتحاد کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

روسی صدر نے کہا کہ حقیقی خودمختاری جدید ٹیکنالوجی، مالیاتی خودانحصاری اور مضبوط صنعتی صلاحیت کے بغیر ممکن نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ روس نے حالیہ برسوں میں یہ سبق سیکھا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی نظام کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے مغربی پابندیوں اور روسی زرمبادلہ کے ذخائر منجمد کیے جانے کو عالمی مالیاتی نظام پر اعتماد کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔ ان کے مطابق اسی وجہ سے کئی ممالک اب ڈالر اور یورو پر انحصار کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پوتن نے کہا کہ روس ان ممالک کے ساتھ قریبی اقتصادی تعاون کو فروغ دے گا جو بین الاقوامی معاہدوں اور باہمی احترام کی بنیاد پر تعلقات رکھتے ہیں۔ انہوں نے بھارت اور چین کے ساتھ تعاون کو عالمی معیشت میں استحکام کا اہم ذریعہ قرار دیا۔

توانائی کے شعبے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے یورپی یونین کی پالیسیوں کو “قلیل نظری” قرار دیا اور کہا کہ روسی توانائی سے دوری نے یورپ کی اقتصادی حیثیت کو مزید کمزور کیا ہے۔ اجلاس میں مختلف ممالک کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

More News