چین نے بھی امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدہ صورتحال میں سفارتی کردار ادا کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق چین خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے اور فریقین کے درمیان بات چیت کو فروغ دینے کے لیے سرگرم ہے۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ چین عالمی سطح پر ایک اہم طاقت کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہا ہے اور خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں استحکام کے لیے سفارتی کوششیں بڑھا رہا ہے۔ موجودہ صورتحال میں جب امریکا کی بعض پالیسیوں کے باعث اس کے پرانے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات میں تناؤ بڑھا ہے، چین اس خلا کو پر کرنے اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
چینی حکام کا مؤقف ہے کہ خطے میں پائیدار امن صرف بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے، اور کسی بھی قسم کی عسکری کشیدگی عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان بھی سفارتی سطح پر متحرک ہے۔ پاکستان کی قیادت مختلف ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ فریقین کو مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق پاکستان خطے میں امن و استحکام کو اپنی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ سمجھتا ہے اور اس مقصد کے لیے مسلسل کوششیں جاری ہیں۔
رپورٹس کے مطابق امریکا کے صدر کی جانب سے جنگ بندی میں غیر معینہ مدت تک توسیع نے صورتحال میں وقتی بہتری کی امید پیدا کی ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل پیش رفت اس وقت ممکن ہوگی جب فریقین براہ راست مذاکرات پر آمادہ ہوں گے۔
ایران کو مذاکرات پر آمادہ کرنے کے لیے مختلف سفارتی چینلز فعال ہیں اور پاکستانی قیادت کے اعلیٰ سطحی رابطے بھی جاری ہیں۔ ان رابطوں میں خطے کے دیگر اہم ممالک بھی شامل ہیں جو کشیدگی میں کمی کے لیے کردار ادا کر رہے ہیں۔
ادھر ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کے لیے بھی تیاریاں جاری ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس سلسلے میں اسلام آباد میں خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں جبکہ سیکیورٹی کے سخت اقدامات بھی نافذ ہیں تاکہ کسی بھی غیر معمولی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق اگر یہ مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو نہ صرف خطے میں کشیدگی میں کمی آئے گی بلکہ عالمی توانائی مارکیٹوں اور معاشی استحکام پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں چین، پاکستان اور دیگر علاقائی قوتوں کا کردار انتہائی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ ان ممالک کی کوششیں مستقبل میں مشرق وسطیٰ کے امن اور عالمی استحکام کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہیں۔
یوں دیکھا جائے تو چین کی ثالثی کی کوششیں اور پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں خطے میں امن کی نئی امید پیدا کر رہی ہیں، جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل عالمی برادری کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔








