چین کو پاکستانی سی فوڈ کی برآمدات میں بڑا اضافہ، 220 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں

چین کو پاکستانی سی فوڈ کی برآمدات میں بڑا اضافہ، 220 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں

جنوری سے جولائی 2026 کے دوران چین کو پاکستانی سی فوڈ کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد برآمدات کی مالیت 156 ملین ڈالر سے بڑھ کر 220 ملین ڈالر تک پہنچ گئی۔ اس اضافے کو پاکستان کے سمندری خوراک کے شعبے کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

اس دوران پاکستانی فروزن فش، کٹل فش اور سکویڈ کی برآمدات نمایاں رہیں، جن سے مجموعی طور پر 76.43 ملین ڈالر کی آمدن حاصل ہوئی۔ چین میں پاکستانی سمندری خوراک کی طلب بڑھنے سے مقامی برآمد کنندگان کے لیے نئی تجارتی راہیں بھی کھل رہی ہیں۔

پاکستانی سی فوڈ کی طلب چین کے اہم ساحلی صوبوں فوجیان، گوانگ ڈونگ، شاندونگ اور ژی جیانگ میں بھی بڑھ رہی ہے۔ ان صوبوں میں سمندری خوراک کی وسیع مارکیٹ پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے اضافی مواقع پیدا کر رہی ہے۔

برآمدی سرگرمیوں میں اضافے کے ساتھ تقریباً 200 پاکستانی سی فوڈ برآمد کنندگان چینی کسٹمز کے ساتھ رجسٹرڈ ہوچکے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی کاروباری اداروں کی چین کی مارکیٹ تک رسائی مزید بہتر ہورہی ہے۔

چین پاکستان آزاد تجارتی معاہدے کے تحت حاصل ترجیحی مارکیٹ رسائی نے بھی پاکستانی سمندری مصنوعات کی برآمدات کو سہولت فراہم کی ہے۔ تجارتی ماہرین کے مطابق اس انتظام سے پاکستانی مصنوعات کو چینی مارکیٹ میں مسابقتی ماحول میں بہتر مواقع حاصل ہوسکتے ہیں۔

پاکستان کے لیے سی فوڈ برآمدات میں اضافہ نہ صرف زرمبادلہ کمانے کا ذریعہ ہے بلکہ اس سے ملک کے برآمدی شعبے میں تنوع پیدا کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ سمندری خوراک کے شعبے سے ماہی گیروں، پروسیسنگ یونٹس، پیکیجنگ اور برآمدی کاروبار سے وابستہ افراد کے لیے روزگار کے مزید مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔

چین کو پاکستانی سی فوڈ کی بڑھتی ہوئی برآمدات دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تجارتی تعلقات کی بھی عکاسی کرتی ہیں۔ پاکستان پہلے ہی چین کے ساتھ مختلف شعبوں میں اقتصادی تعاون بڑھانے کی کوشش کررہا ہے، اور سمندری خوراک کی برآمدات میں یہ اضافہ دوطرفہ تجارت کو مزید وسعت دینے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

اگر پاکستانی برآمد کنندگان معیار، کولڈ چین، پیکیجنگ اور عالمی فوڈ سیفٹی کے تقاضوں کو مزید بہتر بنائیں تو چین سمیت دیگر بین الاقوامی مارکیٹوں میں بھی پاکستانی سی فوڈ کی برآمدات میں مزید اضافے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

More News