کراچی کے قومی ادارہ برائے امراض قلب میں مارفین کے 3 ہزار انجکشن ایکسپائر
کراچی کے قومی ادارہ برائے امراض قلب میں مارفین کے 3 ہزار انجکشن ایکسپائر ہونے کا معاملہ سامنے آیا ہے، جس کے بعد ادویات کی خریداری، ذخیرہ کرنے اور بروقت استعمال کے حوالے سے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
مارفین ایک طاقتور درد کش دوا ہے جو طبی نگرانی میں شدید درد کی شدت کم کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ یہ دوا عموماً ایسے مریضوں کو دی جاتی ہے جنہیں شدید تکلیف کا سامنا ہو اور جن کے لیے عام درد کش ادویات مؤثر ثابت نہ ہو رہی ہوں۔ چونکہ مارفین کے استعمال کے ساتھ بعض طبی خطرات بھی وابستہ ہیں، اس لیے اسے صرف مستند طبی عملے کی نگرانی میں استعمال کیا جاتا ہے۔
قومی ادارہ برائے امراض قلب کراچی میں مارفین کے 3 ہزار انجکشن ایکسپائر ہونے کی خبر نے طبی اداروں میں ادویات کے انتظامی نظام پر توجہ مرکوز کر دی ہے۔ ہسپتالوں میں ادویات کی خریداری کے دوران مریضوں کی ضروریات، دستیاب اسٹاک، استعمال کی رفتار اور میعاد ختم ہونے کی تاریخ کو مدنظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔
اگر بڑی تعداد میں ادویات استعمال کیے بغیر ایکسپائر ہو جائیں تو اس سے سرکاری وسائل کے مؤثر استعمال کے بارے میں سوالات پیدا ہو سکتے ہیں۔ تاہم اس معاملے میں مالی نقصان کی درست مالیت کا تعین انجکشن کی فی یونٹ قیمت، خریداری کی مقدار اور متعلقہ ریکارڈ کی جانچ کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے۔
ادویات کے ذخیرے کو مؤثر انداز میں منظم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہسپتالوں میں اسٹاک کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے، میعاد ختم ہونے کے قریب موجود ادویات کی نشاندہی کی جائے اور مریضوں کی حقیقی ضروریات کے مطابق تقسیم اور استعمال کا نظام بنایا جائے۔
اس معاملے میں یہ جاننا بھی اہم ہوگا کہ مارفین کے انجکشن کب خریدے گئے، ان کی میعاد کب ختم ہوئی، کتنی مقدار مریضوں کے علاج کے لیے مختص تھی اور آیا ادویات کے ضیاع سے بچنے کے لیے کوئی اقدامات کیے گئے تھے۔
تاحال اس واقعے کی وجوہات، مالی نقصان اور ذمہ داران کے تعین سے متعلق تفصیلات کی تصدیق ضروری ہے۔ متعلقہ ہسپتال انتظامیہ کا مؤقف اور سرکاری ریکارڈ سامنے آنے کے بعد معاملے کی مکمل صورتحال واضح ہو سکے گی۔








