پاکستان میں 10 اکتوبر کے بعد ٹو ڈی بارکوڈ کے بغیر ادویات کی تیاری اور فروخت ممنوع

پاکستان میں 10 اکتوبر کے بعد ٹو ڈی بارکوڈ کے بغیر ادویات کی تیاری اور فروخت ممنوع

پاکستان میں ادویات کی تیاری اور فروخت کے نظام کو مزید شفاف بنانے کے لیے 10 اکتوبر کے بعد ٹو ڈی بارکوڈ کے بغیر ادویات کی تیاری ممنوع قرار دے دی گئی ہے۔ اس فیصلے کے تحت مقامی اور ملٹی نیشنل دوا ساز کمپنیوں کو نئے ضابطوں پر عمل درآمد کرنا ہوگا، جبکہ درآمدی ادویات کی فروخت کے لیے بھی ٹو ڈی بارکوڈ کی شرط عائد کی گئی ہے۔

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کی جانب سے اس اقدام کا مقصد ادویات کی شناخت، ان کی نقل و حرکت کی نگرانی اور سپلائی چین میں شفافیت کو بہتر بنانا ہے۔ نئے نظام کے تحت ادویات کی پیکنگ پر موجود ٹو ڈی بارکوڈ کے ذریعے متعلقہ دوا کی شناخت اور اس سے منسلک معلومات تک رسائی ممکن ہو سکے گی۔

ٹو ڈی بارکوڈ جدید شناختی نظام ہے جس میں دوا سے متعلق اہم معلومات محفوظ کی جا سکتی ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے دوا کی مخصوص شناخت، بیچ نمبر اور میعاد ختم ہونے کی تاریخ جیسی تفصیلات کی تصدیق میں مدد مل سکتی ہے، بشرطیکہ متعلقہ معلومات نظام میں درست طور پر درج ہوں۔

پاکستان میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کی روک تھام اور ادویات کی سپلائی چین کو بہتر بنانا صحت کے شعبے کے اہم چیلنجز میں شامل ہے۔ ٹو ڈی بارکوڈ کا نفاذ اس حوالے سے نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کے ذریعے متعلقہ حکام اور سپلائی چین کے مجاز فریقین کے لیے ادویات کی شناخت اور ریکارڈ کی جانچ آسان ہو سکتی ہے۔

دستیاب معلومات کے مطابق ڈریپ نے اس نئے نظام پر عمل درآمد کے لیے دوا ساز کمپنیوں کے نمائندوں اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی تربیت بھی مکمل کر لی ہے۔ اس تربیت کا مقصد متعلقہ اداروں کو بارکوڈ کے استعمال اور نئے تقاضوں کے بارے میں آگاہ کرنا ہے تاکہ نظام کو مؤثر انداز میں نافذ کیا جا سکے۔

نئے ضابطوں کے تحت مقامی اور ملٹی نیشنل دوا ساز کمپنیوں کو ادویات کی تیاری کے دوران مقررہ شرائط پوری کرنا ہوں گی۔ اسی طرح درآمدی ادویات کی ملک بھر میں فروخت کے لیے بھی بارکوڈ سے متعلق تقاضوں پر عمل درآمد ضروری ہوگا۔

اس اقدام کے مؤثر نتائج کے لیے ضروری ہے کہ دوا ساز کمپنیاں، درآمد کنندگان، تقسیم کار اور فارمیسیز متعلقہ ضابطوں پر عمل کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ نگرانی اور جانچ کے نظام کو فعال رکھنا بھی اہم ہوگا تاکہ صارفین تک معیاری اور قابلِ تصدیق ادویات پہنچ سکیں۔

ٹو ڈی بارکوڈ کے نفاذ سے ادویات کی شناخت اور نگرانی میں بہتری آنے کی توقع ہے، تاہم اس نظام کی کامیابی کا انحصار مؤثر عمل درآمد، درست ڈیٹا اور متعلقہ اداروں کی مسلسل نگرانی پر ہوگا۔

More News