کرسی کی خاطر مفاہمت، ناکامی پر بغاوت، پختونخوا کے غیور عوام نے فضل الرحمان کو آئینہ دکھا دیا

اقتدار کی سیاست یا اصولوں کا مؤقف؟ خیبرپختونخوا کے شہریوں کی مولانا فضل الرحمان پر کڑی تنقید

پشاور میں شہریوں نے مولانا فضل الرحمان کی سیاسی حکمت عملی پر سوالات اٹھا دیے، عوام کا کہنا ہے کہ اقتدار میں مفاہمت اور محرومی کی صورت میں سخت مخالفت کا رویہ سیاسی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔

پشاور: خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں شہریوں نے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی سیاست اور سیاسی مؤقف پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاست میں اصولوں اور ذاتی مفادات کے درمیان فرق واضح ہونا چاہیے۔ شہریوں کے مطابق سیاسی قیادت کو اقتدار میں ہو یا اپوزیشن میں، اپنے مؤقف میں یکسانیت اور عوامی مسائل کو ترجیح دینی چاہیے۔

سڑکوں پر عوامی رائے جاننے کے دوران بعض شہریوں نے مولانا فضل الرحمان کے سیاسی کردار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں مختلف حکومتوں کے ساتھ سیاسی مفاہمت اور اقتدار میں شمولیت کے بعد اپوزیشن میں سخت مؤقف اختیار کرنے سے سیاسی رویے پر سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

شہریوں نے الزام عائد کیا کہ جب سیاسی جماعتوں کو حکومتی عہدے اور مراعات حاصل ہوں تو وہ نظام کے ساتھ تعاون کرتی ہیں، تاہم اقتدار سے باہر ہونے کے بعد اسی نظام پر تنقید شروع کردی جاتی ہے۔ ان کے بقول سیاسی اختلاف ہر جماعت کا حق ہے، لیکن مؤقف میں تبدیلی کی وجوہات عوام کے سامنے واضح ہونی چاہئیں۔

عوامی گفتگو میں ریاستی اداروں اور پاک فوج سے متعلق بیانات کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ بعض شہریوں کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلافات کو اداروں کے ساتھ محاذ آرائی میں تبدیل کرنے کے بجائے جمہوری اور آئینی طریقے سے مسائل حل کیے جانے چاہئیں۔ انہوں نے زور دیا کہ قومی سلامتی اور امن و استحکام کے معاملات پر سیاسی قیادت کو ذمہ دارانہ طرزعمل اختیار کرنا چاہیے۔

نیب تحقیقات سے متعلق سوالات

شہریوں نے 2020 میں مولانا فضل الرحمان کے مبینہ بے نامی اثاثوں اور زمینوں سے متعلق نیب تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ان معاملات پر اب تک کیا پیش رفت ہوئی ہے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ اگر کسی سیاسی رہنما کے خلاف مالی بے ضابطگیوں کے الزامات موجود ہیں تو ان کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں اور متعلقہ افراد کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔

واضح رہے کہ کسی بھی الزام کو تحقیقات اور قانونی کارروائی کے بغیر ثابت شدہ حقیقت قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس لیے نیب سے متعلق دعوؤں اور الزامات پر حتمی رائے متعلقہ سرکاری ریکارڈ اور عدالتی فیصلوں کی روشنی میں ہی قائم کی جاسکتی ہے۔

شہریوں نے کہا کہ سیاسی قیادت کو مذہبی، نظریاتی اور جمہوری نعروں کے ساتھ اپنے عملی کردار میں بھی شفافیت دکھانا ہوگی۔ ان کے مطابق عوام اب سیاسی جماعتوں سے محض بیانات نہیں بلکہ کارکردگی، جواب دہی اور اصولی سیاست کی توقع رکھتے ہیں۔

More News