کچھ ممالک نے مکہ دفاعی اتحاد میں شمولیت میں دلچسپی ظاہر کردی، خواجہ آصف

کچھ ممالک نے مکہ دفاعی اتحاد میں شمولیت میں دلچسپی ظاہر کردی، خواجہ آصف

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ کچھ ممالک نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل ہونے میں دلچسپی ظاہر کی ہے، تاہم نئے ارکان کی شمولیت سے متعلق حتمی فیصلہ اتحاد کی قیادت کرے گی۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے بتایا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے سے متعلق کمیٹی کے پہلے اجلاس میں دفاعی اتحاد کو وسعت دینے کے معاملے پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔ اجلاس میں نئے ممالک کی شمولیت کے طریقہ کار اور اس حوالے سے ممکنہ مدت پر بھی غور کیا گیا۔

وزیر دفاع کے مطابق آئندہ اجلاس میں نئے ارکان کی شمولیت کا طریقہ کار واضح ہوجائے گا۔ اس بات پر بھی گفتگو ہوئی کہ نئے ممالک کے لیے اتحاد کے دروازے کتنے عرصے بعد کھولے جانے چاہئیں۔

خواجہ آصف نے بتایا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے سے متعلق آئندہ اجلاس اکتوبر کے شروع میں ہوگا، تاہم اجلاس کے مقام کا فیصلہ باہمی مشاورت سے کیا جائے گا۔ ضرورت پڑنے پر مکہ دفاعی اتحاد کا سربراہی اجلاس بھی بلایا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ اجلاس میں اتحاد کے تنظیمی ڈھانچے، عہدیداروں، سیکریٹریٹ اور دفاتر کے قیام سے متعلق امور پر بھی غور کیا گیا۔ سیکریٹری جنرل اور ان کے ماتحت انتظامی ڈھانچے کے حوالے سے بھی مشاورت ہوئی، تاہم پاکستان سے سیکریٹری جنرل کون ہوگا، اس بارے میں انہیں علم نہیں۔

واضح رہے کہ چند روز قبل بھی خواجہ آصف نے کہا تھا کہ نئے ممالک کی شمولیت فوری ہوگی یا کسی عبوری مدت کے بعد، اس کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔ ان کے مطابق تقریباً ایک سے ڈیڑھ ماہ میں اتحاد کا بنیادی ڈھانچہ عملی شکل اختیار کرلے گا۔

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ابھی تمام معاملات حتمی نہیں ہوئے، تاہم بنیادی اصول اور اسٹرکچر طے کیے جاچکے ہیں۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا یہ اتحاد خطے میں مضبوط دفاعی تعاون کی بنیاد بن سکتا ہے۔

خواجہ آصف نے واضح کیا کہ تینوں ممالک کا اتحاد کسی ملک کے خلاف جارحانہ نوعیت کا نہیں بلکہ اس کا بنیادی مقصد باہمی دفاع اور سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔ ان کے مطابق اگر تینوں رکن ممالک میں سے کسی ایک پر حملہ ہوتا ہے تو اسے تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا، جبکہ اتحاد کا مقصد کسی ملک کے خلاف جارحانہ کارروائی کرنا نہیں۔

More News