ہفتہ وار مہنگائی میں 0.65 فیصد اضافہ، سالانہ شرح 8.35 فیصد ہوگئی
چکن، آٹا، آلو، پیاز اور ٹماٹر سمیت 17 اشیائے ضروریہ گزشتہ ہفتے مہنگی ہوئیں
ملک میں مہنگائی کا دباؤ ایک بار پھر بڑھ گیا، ہفتہ وار بنیاد پر مہنگائی کی شرح میں 0.65 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد سالانہ مہنگائی کی شرح 8.35 فیصد تک پہنچ گئی۔
ادارہ شماریات نے ہفتہ وار مہنگائی سے متعلق تازہ اعداد و شمار جاری کردیے، جن کے مطابق گزشتہ ہفتے چکن، آٹا، آلو، پیاز، ٹماٹر اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔
رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے کے دوران پیاز کی قیمت میں 26 فیصد جبکہ ٹماٹر کی قیمت میں 2.55 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ مہنگی ہونے والی اشیاء میں گندم کا آٹا، چکن، دال ماش اور لہسن بھی شامل ہیں۔
ادارہ شماریات کے مطابق گزشتہ ہفتے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا، جس کے باعث عوام کی روزمرہ ضروریات اور سفری اخراجات پر مزید بوجھ پڑنے کا امکان ہے۔
سالانہ بنیاد پر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ پیاز کی قیمت میں 162 فیصد جبکہ آٹے کی قیمت میں 17 فیصد اضافہ ہوا۔ مرچ کی قیمت بھی سالانہ بنیاد پر 16 فیصد بڑھ گئی۔
اعداد و شمار کے مطابق مٹن کی قیمت میں سالانہ بنیاد پر 16 فیصد جبکہ بیف کی قیمت میں 13 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ دودھ اور بریڈ بھی مہنگی ہونے والی اشیاء میں شامل ہیں۔
توانائی کے شعبے میں بھی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ سالانہ بنیاد پر ایل پی جی 54 فیصد اور ڈیزل 38 فیصد مہنگا ہوا، جبکہ پیٹرول کی قیمت میں 31 فیصد اور بجلی کے نرخوں میں 25 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق اشیائے خورونوش اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا براہِ راست اثر عام شہری کے ماہانہ بجٹ پر پڑتا ہے، جبکہ مہنگائی کی موجودہ رفتار آنے والے دنوں میں عوام کے لیے مزید معاشی مشکلات کا باعث بن سکتی ہے۔








