پشاور اسکول سانحہ: تعلیمی فنڈز، اسکولوں کی عمارتوں اور حفاظتی انتظامات پر سوالات اٹھنے لگے

پشاور اسکول سانحہ: تعلیمی فنڈز، اسکولوں کی عمارتوں اور حفاظتی انتظامات پر سوالات اٹھنے لگے

پشاور: دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گرنے کے افسوسناک واقعے کے بعد خیبر پختونخوا میں گزشتہ 13 سال کے دوران تعلیمی شعبے کی کارکردگی، اسکولوں کی عمارتوں کی حالت اور حفاظتی انتظامات سے متعلق سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ناقدین نے تحریک انصاف کی سابقہ صوبائی حکومت کے دور میں تعلیمی شعبے کے لیے مختص فنڈز کے استعمال اور اسکولوں کی اپ گریڈیشن کے منصوبوں کی شفافیت پر سوالات اٹھائے ہیں۔

سانحے کے بعد شہریوں اور سماجی حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ صوبے بھر کے سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کی عمارتوں کا جائزہ لیا جائے اور بچوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

تعلیمی فنڈز کے استعمال کی تحقیقات کا مطالبہ

ناقدین کے مطابق اسکولوں کی تعمیر، مرمت، اپ گریڈیشن اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے مختص فنڈز کے استعمال کا شفاف آڈٹ ہونا چاہیے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ تعلیمی منصوبوں پر ہونے والے اخراجات، مکمل اور نامکمل منصوبوں اور متعلقہ ٹھیکوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں۔

تاہم اربوں روپے کے فنڈز میں مبینہ بدعنوانی، جعلی منصوبوں یا مخصوص افراد کو مالی فائدہ پہنچانے کے الزامات کی تصدیق کے لیے سرکاری ریکارڈ، آڈٹ رپورٹس اور متعلقہ تحقیقات ضروری ہیں۔

نجی اسکولوں کی عمارتوں کی حفاظت پر سوالات

پشاور کے اسکول میں چھت گرنے کے واقعے نے نجی تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی مضبوطی، انجینئرنگ معائنے، حفاظتی منظوریوں اور رجسٹریشن کے طریقہ کار پر بھی توجہ مرکوز کردی ہے۔

شہری حلقوں کا مطالبہ ہے کہ اسکولوں کی عمارتوں کا باقاعدہ سیفٹی آڈٹ کیا جائے، خطرناک عمارتوں کی نشاندہی کی جائے اور حفاظتی تقاضے پورے نہ کرنے والے اداروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

ذمہ داروں کے تعین کے لیے شفاف تحقیقات ضروری

واقعے کے بعد عوامی حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ حادثے کی وجوہات معلوم کی جائیں اور اگر کسی ادارے یا فرد کی غفلت سامنے آئے تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔

اس سانحے نے بچوں کے لیے محفوظ تعلیمی ماحول کی فراہمی اور تعلیمی اداروں کی نگرانی کے نظام کو مؤثر بنانے کی ضرورت اجاگر کردی ہے۔ متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ تحقیقات کے نتائج اور حفاظتی اقدامات سے عوام کو آگاہ کیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

More News