1948 سے قائم ملتان کا تاریخی مدرسہ بھی نہ بچ سکا، فضل الرحمان اور اسد محمود کا ناجائز قبضہ، اینکر تنزیلہ مظہر کا انکشاف

ملتان کے تاریخی مدرسے جامعہ قاسم العلوم کی اراضی اور انتظامی کنٹرول پر تنازع، فضل الرحمان اور اسد محمود پر اینکر تنزیلہ مظہر کے الزامات

اسلام آباد: ملتان کے تاریخی دینی ادارے جامعہ قاسم العلوم کی 145 کنال اراضی اور انتظامی کنٹرول سے متعلق تنازع ایک بار پھر زیرِ بحث آگیا ہے۔ معروف اینکر پرسن تنزیلہ مظہر نے اپنے ٹی وی پروگرام میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور ان کے صاحبزادے اسد محمود پر ادارے کے انتظامی معاملات میں مبینہ مداخلت اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات عائد کیے ہیں۔ تاہم ان الزامات کی آزادانہ تصدیق اور متعلقہ فریقوں کا مؤقف سامنے آنا ضروری ہے۔

تنزیلہ مظہر کے مطابق جامعہ قاسم العلوم ملتان 1948ء میں قائم ہوا تھا اور کئی دہائیوں سے دینی تعلیم کے شعبے میں خدمات انجام دے رہا ہے۔ ان کے تجزیے میں ادارے کی انتظامی تاریخ، مہتمم کی ذمہ داریوں اور 145 کنال اراضی کی ملکیت و انتظامی کنٹرول سے متعلق اختلافات کا بھی ذکر کیا گیا۔

اینکر پرسن نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمان کے والد مفتی محمود 1974ء سے 1981ء تک اس مدرسے کے مہتمم رہے۔ ان کے بعد مولانا محمد یاسین نے ادارے کی انتظامی ذمہ داریاں سنبھالیں۔

ان کے مطابق 2006ء میں مدرسے کی رجسٹریشن، انتظامی کمیٹی اور مہتمم کے اختیارات کے معاملے پر اختلافات شدت اختیار کر گئے تھے۔ تنزیلہ مظہر کا دعویٰ ہے کہ اس عرصے سے ادارے کے انتظامی کنٹرول اور 145 کنال اراضی کے حوالے سے تنازع چلا آ رہا ہے۔

اپنے پروگرام میں انہوں نے مولانا فضل الرحمان اور اسد محمود پر الزام عائد کیا کہ مدرسے کے انتظامی معاملات میں مبینہ طور پر مداخلت کی گئی اور اسد محمود کو ادارے کی ذمہ داری سونپنے کے معاملے پر بھی سوالات اٹھتے ہیں۔ ان الزامات کے حوالے سے متعلقہ فریقوں کی وضاحت اور قانونی دستاویزات کی جانچ اہمیت رکھتی ہے۔

تنزیلہ مظہر نے مدارس کے انتظامی نظام، مالی معاملات اور قواعد و ضوابط پر عمل درآمد سے متعلق بھی سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر تمام امور قانون اور ضابطوں کے مطابق انجام دیے گئے ہیں تو متعلقہ قانونی نوٹسز اور کارروائیوں کا جواب دستاویزات کے ذریعے دیا جانا چاہیے۔

جامعہ قاسم العلوم کی اراضی اور انتظامی کنٹرول سے متعلق اس معاملے میں اصل حقائق جاننے کے لیے ملکیتی ریکارڈ، رجسٹریشن دستاویزات، عدالتی کارروائیوں اور متعلقہ فریقوں کا مؤقف سامنے آنا ضروری ہے۔

More News

Breaking

1948 سے قائم ملتان کا تاریخی مدرسہ بھی نہ بچ سکا، فضل الرحمان اور اسد محمود کا ناجائز قبضہ، اینکر تنزیلہ مظہر کا انکشاف

ملتان کے تاریخی مدرسے جامعہ قاسم العلوم کی اراضی اور انتظامی کنٹرول پر تنازع، فضل الرحمان اور اسد محمود پر اینکر تنزیلہ مظہر کے الزامات

Read More »