خیبرپختونخوا میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں پر تحقیقات کا مطالبہ، ذمہ داروں کا احتساب ہوگا، ثمر ہارون بلور
پشاور: مشیر گورنر خیبرپختونخوا برائے اطلاعات و تعلقات عامہ ثمر ہارون بلور نے مالی سال 2024-25 کی آڈٹ رپورٹ میں سامنے آنے والی اربوں روپے کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کی سابقہ صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ عوام کے ٹیکسوں سے جمع ہونے والی رقم قومی امانت ہے اور اس کے ایک ایک روپے کا حساب لیا جائے گا۔
آڈٹ رپورٹ سے متعلق اپنے ردعمل میں ثمر ہارون بلور نے کہا کہ سابقہ دور حکومت میں صوبائی خزانے سے ہونے والے اربوں روپے کے اخراجات کی مکمل تصدیق نہ ہونا مالیاتی نظام اور شفافیت پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ ان کے مطابق رپورٹ میں سامنے آنے والے اعدادوشمار اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ تمام مالی معاملات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار افراد کا تعین کیا جائے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ صوبائی اسمبلی سے منظور شدہ بجٹ کے مقابلے میں 104 ارب 26 کروڑ روپے کے اضافی اندراجات کس کی اجازت سے اور کن بنیادوں پر کیے گئے؟ ان کا کہنا تھا کہ 72 ارب 46 کروڑ روپے کے سرکاری اخراجات کی مکمل تصدیق نہ ہونا بھی ایک اہم معاملہ ہے، جس کی وضاحت ضروری ہے۔
ثمر ہارون بلور نے آڈٹ رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ 153 ارب 68 کروڑ روپے کے ترقیاتی اخراجات کو مبینہ طور پر غلط حساباتی مد میں ظاہر کیا گیا۔ اسی طرح پبلک اکاؤنٹ میں 39 ارب 58 کروڑ روپے کا منفی بیلنس بھی مالیاتی نظم و ضبط سے متعلق کئی سوالات پیدا کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 98 ارب 89 کروڑ روپے کے بیرونی قرضوں کا حساباتی ریکارڈ نامکمل پایا گیا، جبکہ غیر ملکی قرضوں اور ان کے سود کی مد میں 51 ارب 85 کروڑ روپے کی ادائیگیوں کے لیے مصدقہ دستاویزات دستیاب نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔
مشیر گورنر کے مطابق صوبائی اندرونی قرضوں کا ریکارڈ مالی سال 2017-18 کے بعد سے اپ ڈیٹ نہیں کیا گیا، جبکہ وفاقی حکومت سے حاصل کیے گئے قرضوں کا ریکارڈ بھی مالی سال 2013-14 کے بعد سے نامکمل ہے۔ صحت، تعلیم، پولیس، شاہراہوں اور دیگر اہم محکموں سمیت ترقیاتی بجٹ میں مزید 20 ارب 20 کروڑ روپے کے اضافی اور مشکوک اندراجات کی نشاندہی بھی آڈٹ رپورٹ میں کی گئی ہے۔
ثمر ہارون بلور نے مطالبہ کیا کہ آڈٹ رپورٹ کے تمام اعتراضات کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں تاکہ مالی بے ضابطگیوں کی نوعیت واضح ہو اور ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی وسائل کے استعمال میں جوابدہی یقینی بنانا ضروری ہے اور کسی کو بھی قومی خزانے کے معاملے میں رعایت نہیں ملنی چاہیے۔
محکمہ ریلیف، بحالی و آبادکاری کا قلمدان بھی سنبھال لیا
دوسری جانب ثمر ہارون بلور نے گورنر خیبرپختونخوا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے محکمہ ریلیف، بحالی و آبادکاری کے قلمدان کا چارج سنبھال لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ذمہ داری ان کے لیے اعزاز ہے اور وہ صوبے کے عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا موسمیاتی تبدیلی، دہشت گردی اور قدرتی آفات سمیت مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، ایسے حالات میں متاثرہ شہریوں کو فوری ریلیف فراہم کرنا اور ان کی بحالی کے لیے مؤثر اقدامات کرنا اولین ترجیح ہوگی۔
انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ صوبے میں کسی بھی آفت یا سانحے کی صورت میں متاثرہ خاندانوں کو کم سے کم وقت میں امداد، بحالی اور دوبارہ آبادکاری کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق صوبائی انتظامیہ مشکل کی ہر گھڑی میں عوام کے ساتھ کھڑی رہے گی۔








