محسن نقوی اور بیرسٹر گوہر کا رابطہ مثبت ہے، بات چیت سے مسائل حل ہونے چاہئیں: رانا ثنااللہ
اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر کے درمیان رابطہ ایک مثبت پیش رفت ہے اور سیاسی معاملات کو بات چیت کے ذریعے آگے بڑھانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت ہمیشہ اس بات پر زور دیتی رہی ہے کہ سیاستدانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر معاملات حل کرنے چاہئیں۔
نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ بیرسٹر گوہر اور وزیر داخلہ محسن نقوی کے درمیان رابطہ موجود ہے، جو اچھی بات ہے اور اس ذریعے کو بات چیت کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق اس سے قبل علی امین گنڈاپور کا بھی وزیر داخلہ سے رابطہ تھا، جسے حکومت نے ہمیشہ مثبت انداز میں دیکھا۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام کے لیے سیاسی قوتوں کے درمیان رابطے اور مذاکرات ضروری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاستدانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنا چاہیے تاکہ اختلافات کو بات چیت کے ذریعے کم کیا جاسکے۔ انہوں نے ماضی کے سیاسی معاہدوں اور موجودہ سیاسی کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی معاملات میں مسلسل محاذ آرائی مسائل کو مزید پیچیدہ بناتی ہے۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ سیاسی بنیادوں پر نہیں تھا۔ ان کے مطابق عمران خان کو شفا اسپتال منتقل کرنے کی تجویز زیر غور تھی، تاہم سیکیورٹی اداروں نے خدشہ ظاہر کیا کہ وہاں منتقلی سے امن و امان کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔ بعد ازاں یہ تجویز دی گئی کہ ڈاکٹروں سے پمز میں ہی ان کا طبی معائنہ کرایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس معاملے پر جو مؤقف اختیار کیا، وہ قانون کے مطابق ہے۔ ان کے مطابق قانون میں قیدی کے سرکاری اسپتال سے باہر علاج سے متعلق پابندیاں موجود ہیں۔ رانا ثنااللہ نے یہ بھی واضح کیا کہ وزیراعظم توہین عدالت کے معاملے میں فریق نہیں ہیں اور درخواست میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا نام بھی شامل نہیں بلکہ سیکریٹری داخلہ کا نام موجود ہے۔
9 مئی کے واقعات پر گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ اس دن فوج کے خلاف بغاوت کی کوشش کی گئی، جسے وہ انتہائی سنگین جرم قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر پہلے ہی واضح کرچکے ہیں کہ 9 مئی کے واقعات ادارے پر حملہ تھے اور انہیں نہ معاف کیا گیا ہے اور نہ ہی بھلایا جائے گا۔
پمز اسپتال میں آتشزدگی کے واقعے پر رانا ثنااللہ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ نومولود بچوں کے والدین کے لیے انتہائی بڑا صدمہ ہے۔ ان کے مطابق واقعے کی مکمل اور شفاف انکوائری ہونی چاہیے اور جو لوگ ذمہ دار ثابت ہوں، انہیں سزا ملنی چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے پمز سانحے پر اعلیٰ سطح کا اجلاس طلب کرکے صورتحال کا جائزہ لیا ہے۔ رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ واقعے میں جو بھی ذمہ دار ہو، اس کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جاسکے۔






