انڈیا کی جیلوں سے 25 پاکستانی شہری رہا، واہگہ اٹاری سرحد کے راستے وطن واپس
پاکستان ہائی کمیشن کے مطابق واپس آنے والے شہریوں میں ماہی گیر شامل ہیں، حکومت نے دیگر پاکستانی قیدیوں کی رہائی اور وطن واپسی کے لیے کوششیں جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
اسلام آباد: نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن نے تصدیق کی ہے کہ انڈیا کی مختلف جیلوں سے رہائی پانے والے 25 پاکستانی شہری واہگہ اٹاری سرحد کے راستے وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔ ہائی کمیشن کے حکام نے سرحد پر موجود رہ کر پاکستانی شہریوں کی وطن واپسی کے عمل میں سہولت فراہم کی۔
پاکستانی ہائی کمیشن نے 29 اگست کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ 25 پاکستانی شہریوں کو واہگہ اٹاری سرحد کے ذریعے پاکستان واپس بھیجا گیا۔ ہائی کمیشن کے مطابق اس موقع پر متعلقہ حکام سرحد پر موجود تھے تاکہ وطن واپس آنے والے شہریوں کے لیے ضروری کارروائی مکمل کی جا سکے۔
ہائی کمیشن نے کہا کہ حکومت پاکستان انڈیا کی جیلوں میں قید تمام پاکستانی شہریوں کی رہائی اور وطن واپسی کے لیے کوششیں جاری رکھے گی۔ حکام کے مطابق قیدیوں کی رہائی کے معاملے کو دونوں ممالک کے درمیان قونصلر رابطوں کے ذریعے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق واپس آنے والے 25 افراد ماہی گیر ہیں جن کا تعلق کراچی اور ضلع ٹھٹہ سے بتایا گیا ہے۔ پاکستان اور انڈیا کے ماہی گیر اکثر بحیرہ عرب میں سمندری حدود عبور کرنے کے باعث ایک دوسرے کے ہاتھوں گرفتار ہو جاتے ہیں۔ سمندری سرحد کی واضح نشاندہی میں مشکلات، محدود مواصلاتی سہولیات اور کشتیوں میں جدید نیوی گیشن نظام نہ ہونے کے باعث بعض ماہی گیر غیر ارادی طور پر دوسرے ملک کی حدود میں داخل ہو جاتے ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب رواں سال قیدیوں کی فہرستوں کے معمول کے تبادلے کے دوران انڈیا نے اپنی تحویل میں 439 پاکستانی یا ممکنہ طور پر پاکستانی شہریوں کی موجودگی سے آگاہ کیا تھا۔ ان میں 53 ماہی گیر اور 386 دیگر قیدی شامل تھے۔
اسی عمل کے تحت پاکستان نے بھی انڈیا کو اپنی تحویل میں موجود 250 انڈین یا ممکنہ طور پر انڈین شہریوں کی فہرست فراہم کی، جن میں 198 ماہی گیر اور 52 دیگر قیدی شامل تھے۔
پاکستان نے انڈیا سے ان 97 پاکستانی قیدیوں کی رہائی اور وطن واپسی کا مطالبہ بھی کیا تھا جن کی سزائیں مکمل ہو چکی ہیں اور جن کی پاکستانی شہریت کی تصدیق ہو چکی ہے۔
پاکستان اور انڈیا کے درمیان 2008 کے قونصلر رسائی کے معاہدے کے تحت دونوں ممالک سال میں دو مرتبہ ایک دوسرے کی تحویل میں موجود قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ کرتے ہیں۔ شہریت کی تصدیق کے بعد ماہی گیروں اور دیگر قیدیوں کی رہائی کا عمل شروع کیا جاتا ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ سفارتی تعلقات کے باعث بعض معاملات میں اس عمل کو مکمل ہونے میں طویل وقت لگ جاتا ہے۔
25 پاکستانی ماہی گیروں کی وطن واپسی کو قیدیوں کے معاملے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ پاکستانی حکام نے واضح کیا ہے کہ باقی قیدیوں کی رہائی کے لیے بھی سفارتی کوششیں جاری رہیں گی۔








