ستھرا پنجاب مہم کی کارکردگی جانچنے کیلئے صوبے بھر میں روزانہ آڈٹ کا فیصلہ

ستھرا پنجاب مہم کی کارکردگی جانچنے کیلئے صوبے بھر میں روزانہ آڈٹ کا فیصلہ

صفائی مہم کے دعوؤں اور زمینی صورتحال میں فرق سامنے آنے پر پنجاب بھر میں روزانہ آڈٹ کا فیصلہ کیا گیا ہے، آڈٹ رپورٹ میں سرگودھا میں سیوریج اور کچرے کے سب سے زیادہ انبار کی نشاندہی ہوئی۔

پنجاب حکومت نے صوبے میں جاری ستھرا پنجاب مہم کی کارکردگی کا باقاعدگی سے جائزہ لینے کے لیے روزانہ آڈٹ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد صفائی کے انتظامات کو مؤثر بنانا اور مختلف علاقوں میں موجود مسائل کی فوری نشاندہی کرنا ہے۔

آڈٹ رپورٹ 2025 کے مطابق صوبے کے مختلف شہروں میں صفائی کے حوالے سے خامیاں سامنے آئی ہیں، جبکہ سرگودھا میں سیوریج کے مسائل اور کچرے کے سب سے زیادہ انبار پائے گئے ہیں۔

رپورٹ میں لاہور کی صورتحال کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جہاں 46 مختلف مقامات پر کچرے کے ڈھیر اور سیوریج کے مسائل کی نشاندہی کی گئی۔ آڈٹ کے دوران سامنے آنے والی صورتحال نے صفائی کے حوالے سے حکومتی دعوؤں اور زمینی حقائق کے درمیان فرق بھی واضح کیا ہے۔

حکام کے مطابق صفائی کے انتظامات میں غفلت برتنے والے علاقوں کی نشاندہی کے بعد متعلقہ انتظامیہ کو فوری کارروائی کی ہدایت کی گئی ہے۔ رپورٹ میں متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کو صفائی کی صورتحال بہتر بنانے اور کچرے و سیوریج کے مسائل کے فوری حل کے لیے اقدامات کرنے کا کہا گیا ہے۔

صوبائی حکومت کی جانب سے ستھرا پنجاب مہم کو شہریوں کو بہتر اور صاف ماحول فراہم کرنے کے لیے اہم منصوبہ قرار دیا جاتا رہا ہے۔ تاہم مختلف علاقوں میں کچرے کے ڈھیروں، ناقص سیوریج اور صفائی کے مسائل کی موجودگی مہم کی مؤثریت پر سوالات اٹھا رہی ہے۔

روزانہ آڈٹ کے فیصلے کے تحت صفائی کے انتظامات کا مسلسل جائزہ لیا جائے گا، جس سے متعلقہ اداروں کی کارکردگی کو جانچنے اور غفلت کی صورت میں فوری ایکشن لینے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ صفائی کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے صرف دعوے کافی نہیں بلکہ فیلڈ میں مؤثر اقدامات اور مسلسل نگرانی ضروری ہے۔ آڈٹ کے ذریعے مختلف اضلاع کی کارکردگی سامنے آنے کے بعد کمزور علاقوں میں انتظامی اقدامات مزید سخت کیے جا سکتے ہیں۔

سرگودھا میں سب سے زیادہ کچرے اور سیوریج کے مسائل سامنے آنے کے بعد ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی بھی خصوصی توجہ کا مرکز بن گئی ہے، جبکہ لاہور سمیت دیگر بڑے شہروں میں بھی صفائی کے انتظامات کی مسلسل نگرانی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

More News