میر رضا قتل کیس: والدین اور بہن جوڈیشل کمیشن کے سامنے پیش، بیانات جمع
باڈی اسپتال منتقل کرنے والے ڈرائیورز، نرسری ملازمین اور ایم ایل او ڈاکٹر اسامہ شیخ بھی کمیشن کے سامنے پیش
کراچی: سندھ ہائی کورٹ میں میر رضا قتل کیس کے حوالے سے قائم جوڈیشل کمیشن کی دوسری سماعت ہوئی، جس کی سربراہی جسٹس عمر سیال نے کی۔ سماعت کے دوران میر رضا کے والدین اور بہن سمیت دیگر اہم گواہان کمیشن کے سامنے پیش ہوئے اور اپنے بیانات ریکارڈ کرائے۔
میر رضا کے والد میر حسین نے کمیشن کے سامنے بیان دیتے ہوئے بتایا کہ ان کے بیٹے کے لاپتہ ہونے کے حوالے سے تفصیلات اس کی والدہ بہتر طور پر بتا سکتی ہیں۔ ان کے مطابق صبح 4 بج کر 14 منٹ پر میر رضا کے دوست حیسَم کی کال موصول ہوئی، جس میں بتایا گیا کہ میر رضا کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ڈیلیٹ ہوگئے ہیں اور اس حوالے سے معلومات حاصل کی جائیں۔
میر حسین کے مطابق میر رضا کی منگیتر سلمیٰ نے حیسَم کو کال کرکے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے متعلق آگاہ کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے میر رضا کا کمرہ چیک کیا تو اس کی ذاتی اشیا وہاں موجود تھیں، جس کے بعد انہوں نے اپنی بیٹی کو اٹھا کر میر رضا کے حوالے سے بتایا۔
والد کے مطابق حیسَم کے دو کزن بھی معاملے میں شامل ہوئے، جبکہ رازق ان کے گھر پہنچا۔ انہوں نے بتایا کہ میر رضا کی شاپ پر دو منیجرز شیری اور کاظم بھی گھر پہنچ گئے تھے۔
میر حسین نے مزید بتایا کہ اہلخانہ نے بعد ازاں ملاپ نامی گمشدگی ایپ کے ادارے سے رابطہ کیا، جس نے میر رضا کی گمشدگی سے متعلق پوسٹ سوشل میڈیا پر شیئر کی۔
سماعت کے دوران میر رضا کے والدین اور بہن کے علاوہ باڈی اسپتال منتقل کرنے والے ڈرائیورز، نرسری کے ملازمین اور میڈیکو لیگل آفیسر (ایم ایل او) ڈاکٹر اسامہ شیخ بھی جوڈیشل کمیشن کے سامنے پیش ہوئے۔
کمیشن نے مختلف افراد کے بیانات قلمبند کیے اور کیس سے متعلق دستیاب شواہد اور واقعات کی تفصیلات کا جائزہ لیا۔ میر رضا کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں مزید گواہان اور متعلقہ افراد کے بیانات بھی ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔
جوڈیشل کمیشن کی کارروائی کا مقصد واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے کر حقائق سامنے لانا اور ذمہ دار عوامل کا تعین کرنا ہے۔





