گلگت بلتستان میں بادل پھٹنے سے سیلاب، شاہراہ قراقرم سمیت متعدد سڑکیں بند
گلگت بلتستان میں شدید بارشوں کے بعد بادل پھٹنے اور اچانک آنے والے سیلاب نے مختلف علاقوں میں تباہی مچا دی۔ غذر کے نوبہار گاؤں میں سیلابی ریلے سے گھروں، فصلوں، پھل دار درختوں اور زرعی اراضی کو نقصان پہنچا جبکہ گش گش جماعت خانہ بھی متاثر ہوا۔
سیلابی ریلوں کے باعث امیٹ سے برجنگل جانے والی سڑک بند ہوگئی اور بجلی کی ترسیلی لائنوں کو بھی نقصان پہنچا، جس سے مقامی آبادی کا دیگر علاقوں سے رابطہ منقطع ہوگیا۔ متاثرین نے انتظامیہ سے سڑک کی فوری بحالی اور ہنگامی امداد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
گلگت بلتستان پولیس کے مطابق لینڈ سلائیڈنگ کے باعث سوست سے خنجراب ٹاپ تک شاہراہ قراقرم بھی مکمل طور پر بند رہی، جبکہ متعلقہ ادارے سڑک کی بحالی کے لیے کام کر رہے ہیں۔ دوسری جانب ہنزہ میں مرتضیٰ آباد اور حسن آباد کے درمیان شاہراہ قراقرم کا متاثرہ حصہ ٹریفک کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔
مسلسل بارش کے باعث خطے میں درجہ حرارت میں بھی کمی آئی ہے۔ ضلعی انتظامیہ دیامر کے مطابق بابوسر ٹاپ پر رواں سیزن کی پہلی برف باری ہوئی، تاہم بابوسر روڈ پر ٹریفک جاری رہی۔ حکام نے سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق جون سے اگست کے دوران بادل پھٹنے اور گلیشیئرز پگھلنے کے نتیجے میں 120 سیلابی واقعات پیش آئے، جن سے مکانات، زرعی اراضی، باغات، سڑکوں، آبپاشی کے نظام اور بجلی کے ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔
ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث گلگت بلتستان میں سیلاب، بادل پھٹنے، گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے اور لینڈ سلائیڈنگ جیسے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔








