ٹرمپ کی نیو میکسیکو کا نام تبدیل کرکے نیو امریکا رکھنے کی تجویز
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاست نیو میکسیکو کا نام تبدیل کرکے اسے ’’نیو امریکا‘‘ رکھنے کی تجویز پیش کردی، تاہم ریاست کے گورنر نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ریاست کے نام پر کوئی بحث نہیں ہوگی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگوں نے ریاست کا نام تبدیل کرنے کی تجویز دی ہے اور ان کے خیال میں نیو میکسیکو کا نام ’’نیو امریکا‘‘ ہونا چاہیے۔ امریکی صدر نے کہا کہ ’’نیو امریکا‘‘ نام ریاست کے لیے زیادہ باوقار اور خوبصورت ہوگا۔
ٹرمپ کی تجویز پر نیو میکسیکو کی گورنر مشیل لوجن گریشم نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے مسترد کردیا۔ گورنر کا کہنا ہے کہ نیو میکسیکو کا نام کسی بحث یا تبدیلی کے لیے زیرِ غور نہیں ہے۔
مشیل لوجن گریشم نے کہا کہ نیو میکسیکو کا نام امریکا کے موجودہ وجود میں آنے سے بھی پہلے سے چلا آ رہا ہے، اس لیے ریاست کے تاریخی نام کو تبدیل کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔
گورنر نے امریکی صدر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایسے بیانات دے کر امریکی عوام کی توجہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور دیگر معاشی مسائل سے ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ٹرمپ کی تجویز نے ریاست کے نام اور اس کی تاریخی شناخت سے متعلق ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے، تاہم گورنر کے واضح مؤقف کے بعد فی الحال ریاست کا نام تبدیل کرنے کی کوئی عملی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔








