آئی سی سی نے پاکستان کی کپتان فاطمہ ثنا پر جرمانہ عائد کردیا

آئی سی سی نے پاکستان کی کپتان فاطمہ ثنا پر جرمانہ عائد کردیا

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی کپتان فاطمہ ثنا پر بھارت کے خلاف ایشیا کپ کے میچ میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر جرمانہ عائد کردیا۔

آئی سی سی کے مطابق فاطمہ ثنا پر میچ فیس کا 10 فیصد جرمانہ کیا گیا ہے، جبکہ انہیں ایک ڈی میرٹ پوائنٹ بھی دیا گیا ہے۔ یہ کارروائی آئی سی سی کے ضابطہ اخلاق کی لیول ون خلاف ورزی پر کی گئی۔

فاطمہ ثنا نے بھارت کے خلاف میچ کے دوران بھارتی بیٹر شفالی ورما کو آؤٹ کرنے کے بعد پویلین کی جانب جانے کا اشارہ کیا تھا۔ آئی سی سی نے اس عمل کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی قرار دیا۔

آئی سی سی کے مطابق پاکستانی کپتان نے اپنی غلطی تسلیم کرلی، جس کے بعد معاملے پر باضابطہ سماعت کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ فاطمہ ثنا کی جانب سے خلاف ورزی قبول کیے جانے کے بعد مقررہ ضابطے کے تحت جرمانہ عائد کیا گیا۔

آئی سی سی کے ضابطہ اخلاق کے تحت لیول ون کی خلاف ورزیوں میں کھلاڑیوں کو مالی جرمانے کے ساتھ ڈی میرٹ پوائنٹس بھی دیے جاسکتے ہیں۔ کھلاڑی کے ڈی میرٹ پوائنٹس ایک مخصوص مدت کے دوران جمع ہوتے رہتے ہیں اور زیادہ پوائنٹس کی صورت میں مزید پابندیوں کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

فاطمہ ثنا کے گزشتہ 24 ماہ کے دوران ڈی میرٹ پوائنٹس کی تعداد اب دو ہوگئی ہے۔ ان کا پہلا ڈی میرٹ پوائنٹ 6 اگست 2025 کو ڈبلن میں آئرلینڈ کے خلاف کھیلے گئے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ کے دوران دیا گیا تھا۔

یوں ایک سال سے زائد عرصے میں پاکستانی کپتان کے خلاف یہ دوسری ضابطہ اخلاق کی کارروائی ہے۔ تازہ کارروائی کے بعد فاطمہ ثنا کے لیے آئندہ بین الاقوامی مقابلوں میں آئی سی سی کے ضابطہ اخلاق کی پابندی مزید اہم ہوگئی ہے۔

فاطمہ ثنا پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی اہم کھلاڑیوں میں شامل ہیں اور بطور کپتان ٹیم کی قیادت بھی کر رہی ہیں۔ ایشیا کپ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان مقابلے ہمیشہ شائقین کی خصوصی توجہ کا مرکز رہتے ہیں، تاہم اس میچ کے بعد پاکستانی کپتان پر عائد جرمانہ بھی توجہ کا باعث بن گیا ہے۔

آئی سی سی کی کارروائی کے باوجود فاطمہ ثنا نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے معاملے کو مزید کارروائی کے بغیر ختم کرنے میں تعاون کیا۔ کرکٹ کے عالمی ادارے کے مطابق جرمانہ اور ڈی میرٹ پوائنٹ ضابطے کے مطابق عائد کیے گئے ہیں۔

More News