پمز میں 10 فیصد مریضوں سے فیس وصولی پر وزیر صحت کا نوٹس
اسلام آباد: وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں بعض مریضوں سے فیس وصول کیے جانے کا نوٹس لیتے ہوئے انتظامیہ سے تفصیلات طلب کرلی ہیں۔
وفاقی وزیر صحت نے پمز میں 10 فیصد مریضوں سے علاج کی فیس وصول کیے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے نامناسب قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اسپتال میں 90 فیصد مریضوں کا علاج مفت کیا جا رہا ہے تو باقی 10 فیصد مریضوں سے فیس کیوں وصول کی جا رہی ہے؟
مصطفیٰ کمال نے پمز انتظامیہ سے مریضوں سے فیس وصولی کے طریقہ کار، اس کی وجوہات اور اس مد میں حاصل ہونے والی آمدن کی مکمل تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے اس معاملے پر پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد سلمان سے بھی وضاحت طلب کرتے ہوئے برہمی کا اظہار کیا۔
وفاقی وزیر صحت کا کہنا تھا کہ پمز ایک اہم سرکاری طبی ادارہ ہے جہاں ملک بھر سے مریض علاج کے لیے آتے ہیں، اس لیے یہاں علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی میں شفافیت اور یکساں پالیسی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ فیس ادا کرنے والے 10 فیصد مریض بھی پمز کے بارے میں مختلف رائے قائم کریں گے، اس لیے اس معاملے کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ ان کے مطابق حکومت کی کوشش ہے کہ سرکاری اسپتالوں میں عام شہریوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جائیں اور علاج کے اخراجات کا بوجھ کم کیا جائے۔
مصطفیٰ کمال نے واضح کیا کہ وہ پمز کے 100 فیصد مریضوں کو مفت علاج کی سہولت فراہم کرنے کے معاملے پر وزیراعظم سے بات کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ممکن ہوا تو اسپتال میں تمام مریضوں کے لیے مفت علاج کی پالیسی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
وزیر صحت کی جانب سے نوٹس لیے جانے کے بعد پمز انتظامیہ سے فیس وصولی سے متعلق تفصیلات سامنے آنے کا امکان ہے، جس کے بعد اس پالیسی میں ممکنہ تبدیلی یا مزید اقدامات کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔








