سندھ میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کا عوامی مطالبہ زور پکڑ گیا
کراچی: سندھ میں بڑھتی آبادی، بنیادی سہولیات کی کمی اور انتظامی مسائل کے حل کے لیے نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کا مطالبہ زور پکڑ گیا۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ موجودہ انتظامی ڈھانچہ بڑھتی ہوئی آبادی اور عوامی ضروریات کے مقابلے میں ناکافی ہے، اس لیے اختیارات اور وسائل کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کے لیے نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کا قیام ضروری ہے۔
شہریوں کے مطابق کراچی، حیدرآباد سمیت دیگر علاقوں پر مشتمل نئے صوبے بننے سے مقامی مسائل پر زیادہ مؤثر انداز میں توجہ دی جاسکتی ہے، جبکہ ترقیاتی منصوبوں، روزگار، کاروبار، انفرااسٹرکچر اور بنیادی سہولیات کی فراہمی بھی بہتر ہوسکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں کے قیام سے حکومتی ادارے عوام کے قریب آئیں گے اور شہریوں کو سرکاری امور کے لیے دور دراز علاقوں کا سفر نہیں کرنا پڑے گا۔ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی سے فیصلہ سازی میں بہتری اور حکومتی کارکردگی میں شفافیت بھی ممکن ہوگی۔
شہریوں نے کہا کہ جب ملک کی آبادی تقریباً 7 کروڑ تھی تو موجودہ صوبائی نظام قائم تھا، جبکہ آج پاکستان کی آبادی 26 کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے۔ آبادی میں اس بڑے اضافے کے بعد انتظامی ڈھانچے پر بھی نظرثانی کی ضرورت ہے۔
سندھ کے شہریوں نے مطالبہ کیا کہ نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام پر سنجیدہ غور کیا جائے تاکہ وسائل اور اختیارات عوام کی دہلیز تک پہنچائے جاسکیں اور تمام علاقوں کو یکساں ترقی کے مواقع مل سکیں۔








