گیس سیکٹر کا 3,600 ارب روپے کا گردشی قرض 3 سال میں ختم کرنے کا پلان تیار
گیس سیکٹر کے بڑھتے ہوئے گردشی قرضے کو ختم کرنے کے لیے حکومت نے تین سالہ منصوبہ تیار کرلیا ہے۔ ذرائع کے مطابق گیس سیکٹر کا مجموعی گردشی قرض تقریباً 3,600 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، جس میں 2,100 ارب روپے سود جبکہ 1,500 ارب روپے اصل قرض شامل ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے تیار کیے گئے پلان کے تحت گیس سیکٹر کے گردشی قرض میں ہر سال مرحلہ وار کمی کی جائے گی۔ پہلے سال قرض میں 528 ارب روپے، دوسرے سال 473 ارب روپے جبکہ تیسرے سال مزید 433 ارب روپے کمی کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
اس منصوبے کے تحت گیس کمپنیوں کے 840 ارب روپے کے ڈیویڈنڈ کو بھی گردشی قرض کم کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ پٹرولیم لیوی سے تقریباً 270 ارب روپے حاصل کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جسے قرض کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے بروئے کار لانے کی تجویز ہے۔
ذرائع کے مطابق قطر سے ایل این جی کے اضافی کارگوز مؤخر کرنے سے 310 ارب روپے، پاور سیکٹر کے ٹیک اینڈ پے میکنزم سے 15 ارب روپے جبکہ ایل این جی کی مکمل لاگت صارفین سے وصول کرنے کے ذریعے مزید 60 ارب روپے گردشی قرض میں کمی لانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
گیس سیکٹر کے گردشی قرض پر عائد مارک اپ کے معاملے کو بھی منصوبے میں شامل کیا گیا ہے اور اس حوالے سے سیٹلمنٹ کی کوشش کی جائے گی۔ حکومت کو آئندہ دنوں میں اس منصوبے پر اہم اقتصادی فیصلے کرنا ہوں گے تاکہ گیس سیکٹر کے مالی مسائل کو مستقل بنیادوں پر حل کیا جاسکے۔
دوسری جانب ایل این جی کی مکمل لاگت صارفین سے وصول کرنے کے فیصلے کے نتیجے میں گیس کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کا براہ راست اثر گھریلو اور صنعتی صارفین پر پڑ سکتا ہے۔
آئی ایم ایف کے ساتھ ورچوئل اقتصادی جائزہ مذاکرات ستمبر کے آخری ہفتے میں متوقع ہیں، جہاں وزارت خزانہ کی جانب سے گیس سیکٹر کے گردشی قرض کے سیٹلمنٹ پلان سے عالمی مالیاتی ادارے کو آگاہ کیا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے تیار کردہ یہ منصوبہ گیس سیکٹر کے مالی بحران پر قابو پانے کی کوششوں میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔








