یونیورسٹی آف پشاور مالی و انتظامی بحران کا شکار، اساتذہ تاحال تنخواہوں سے محروم

یونیورسٹی آف پشاور مالی و انتظامی بحران کا شکار، اساتذہ تاحال تنخواہوں سے محروم

پشاور یونیورسٹی مالی اور انتظامی مشکلات سے دوچار ہے، جبکہ اساتذہ تاحال تنخواہوں سے محروم ہیں۔ پشاور یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن (پیوٹا) نے جامعہ کی انتظامی کارکردگی اور مالی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر واجب الادا تنخواہوں کی ادائیگی کا مطالبہ کیا ہے۔

پیوٹا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تنخواہ اساتذہ کا بنیادی حق ہے اور اسے کسی رعایت یا احسان کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ تنظیم نے مطالبہ کیا کہ اساتذہ کی تمام بقایا تنخواہیں بلا تاخیر ادا کی جائیں تاکہ انہیں درپیش مالی مشکلات کا خاتمہ ہوسکے۔

اساتذہ کی تنظیم نے یونیورسٹی کے مالی معاملات پر بھی سوالات اٹھائے اور خزانچی کی کارکردگی پر تشویش کا اظہار کیا۔ پیوٹا کے مطابق مالی معاملات کو مؤثر انداز میں چلانے میں مسلسل ناکامی کا سامنا ہے، جس کے باعث تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر جیسے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔

پیوٹا کا کہنا ہے کہ تنخواہوں کی بروقت ادائیگی میں ناکامی جامعہ کی انتظامی کارکردگی، مالی نظم و ضبط اور جوابدہی سے متعلق سنجیدہ سوالات پیدا کرتی ہے۔ اساتذہ نے مطالبہ کیا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ مالی بحران کے حل کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے اور ملازمین کے واجبات کی ادائیگی یقینی بنائے۔

اساتذہ کے مطابق موجودہ صورتحال کا براہ راست اثر ان کی پیشہ ورانہ اور ذاتی زندگی پر پڑ رہا ہے، اس لیے تنخواہوں کی ادائیگی میں مزید تاخیر قابل قبول نہیں۔

More News