امریکا وینزویلا کی طرح ایران کا تیل بھی قبضے میں لے سکتا ہے: صدر ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ امریکا ایران میں جاری جنگ کے بعد بھی وہاں موجود رہ سکتا ہے اور وینزویلا کی طرز پر ایرانی تیل کو اپنے قبضے میں رکھنے کا فیصلہ کرسکتا ہے۔
آئرلینڈ کے دورے کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ رواں برس ختم ہوجائے گی، اور ممکنہ طور پر نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد صورتحال بہتر ہوسکتی ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ صرف ایسا معاہدہ کرے گا جو اس کے لیے درست اور قابل قبول ہو۔ ان کے مطابق ایران کی جانب سے امن مذاکرات کے لیے مسلسل رابطہ کیا جا رہا ہے، تاہم تہران ماضی میں اس حوالے سے سامنے آنے والے بعض دعوؤں کو مسترد کرتا رہا ہے۔
امریکی صدر نے ایران کے معاملے کو وینزویلا کے ساتھ ہونے والے معاہدے سے جوڑتے ہوئے کہا کہ امریکا مستقبل میں ایران سے نکل سکتا ہے، تاہم اگر وہاں رہنے یا ایرانی تیل کو اپنے قبضے میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تو صورتحال مختلف ہوسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وینزویلا سے حاصل ہونے والی آمدنی نے جنگ کے اخراجات کو بڑی حد تک پورا کردیا ہے۔
دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی تیل منڈیوں پر بھی دباؤ بڑھ گیا ہے۔ سعودی تیل پائپ لائن پر حملے کے بعد عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔







