چھوٹے صوبے، بہتر گورننس اور متوازن ترقی کی ضرورت
دنیا کے بڑے اور ترقی یافتہ ممالک کے انتظامی ماڈلز اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کم آبادی پر مشتمل صوبے اور ریاستیں مؤثر حکمرانی، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور عوام تک سہولیات کی آسان رسائی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
امریکہ کی 50 ریاستوں میں 11 ریاستوں کی آبادی 15 لاکھ سے کم ہے، جبکہ بھارت کی 28 ریاستوں میں 8 ریاستوں کی آبادی 50 لاکھ سے کم ہے۔ اس کے باوجود ان میں سے کئی چھوٹی ریاستیں معاشی کارکردگی اور فی کس آمدن کے اعتبار سے بڑی ریاستوں سے بہتر نتائج دے رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق کسی علاقے کی ترقی کا تعلق صرف آبادی کے حجم سے نہیں بلکہ مؤثر انتظام، بہتر منصوبہ بندی، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور مقامی ضروریات کے مطابق حکومتی نظام سے ہے۔ چھوٹی انتظامی اکائیوں میں حکومت اور عوام کے درمیان فاصلہ بھی کم ہوتا ہے، جس سے بنیادی سہولیات اور سرکاری خدمات کی فراہمی زیادہ مؤثر بن سکتی ہے۔
پاکستان کے تناظر میں صورتحال مزید اہم ہے۔ ایک موجودہ ڈویژن کی اوسط آبادی تقریباً 76 لاکھ بنتی ہے، جو امریکہ کی 50 میں سے 36 ریاستوں کی آبادی سے زیادہ ہے۔ پاکستان کے بعض کم آبادی والے ڈویژنوں کی آبادی امریکہ کی ریاستوں وائومنگ، ورمونٹ، الاسکا اور ڈیلاویئر جبکہ بھارت کی سکم، میزورم اور گوا جیسی ریاستوں کے برابر یا قریب ہے۔
ان مثالوں سے یہ سوال اہمیت اختیار کرتا ہے کہ جب دنیا کے کئی ممالک کم آبادی والی ریاستوں کے ذریعے مؤثر گورننس اور متوازن ترقی حاصل کرسکتے ہیں تو پاکستان میں بڑی انتظامی اکائیوں کے متبادل پر سنجیدہ بحث کیوں نہ کی جائے۔
نئے اور بااختیار صوبوں یا انتظامی یونٹس کا مقصد صرف نقشے پر تبدیلی نہیں بلکہ اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنا، وسائل کی منصفانہ تقسیم، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور عوام کو اپنے مسائل کے حل کے لیے دور دراز مراکز کے بجائے قریب ہی مؤثر حکومتی نظام فراہم کرنا ہونا چاہیے۔






