میر رضا کیس: جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں پولیس تفتیش پر سخت سوالات

میر رضا کیس: جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں پولیس تفتیش پر سخت سوالات

لاہور: میر رضا کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں پولیس تفتیش، شواہد محفوظ کرنے اور واقعے کو خودکشی قرار دینے کے معاملے پر سخت سوالات اٹھائے گئے۔ کمیشن نے ایس ایچ او اور تفتیش سے وابستہ اہلکاروں سے مختلف شواہد اور کارروائی سے متعلق وضاحتیں طلب کیں۔

میر رضا کے والد میر حسین نے بتایا کہ ایس ایچ او نے انہیں 48 گھنٹوں میں پیش رفت سے آگاہ کرنے کا کہا تھا۔ کمیشن نے سوال اٹھایا کہ پولیس نے مبینہ ملزمان کو ٹریس کرلیا تھا تو 48 گھنٹے بعد واقعے کو خودکشی کیوں قرار دیا گیا۔

اجلاس میں لاش، سمارٹ واچ اور دیگر شواہد سے متعلق بھی سوالات کیے گئے۔ عدیل افضال نے بتایا کہ سمارٹ واچ فرانزک کے لیے خاندان سے حاصل کی گئی تھی اور اس کا میمو بھی بنایا گیا تھا۔ کمیشن نے میمو میں درج اہلکاروں کے ناموں پر بھی سوال اٹھائے۔

کمیشن نے موبائل فون کی برآمدگی اور فرانزک کے لیے بھیجے جانے کے معاملے پر بھی تفصیلات طلب کیں۔ بتایا گیا کہ موبائل فون 30 جولائی کو ملا اور 31 جولائی کو فرانزک کے لیے بھیج دیا گیا، جبکہ لوکیٹر ٹیم نے ساجد نامی مزدور سے فون برآمد کیا تھا۔

اجلاس میں سی سی ٹی وی فوٹیج کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ جبران ناصر نے سوال اٹھایا کہ اگر فوٹیج میں میر رضا کو موبائل فون پھینکتے ہوئے دکھایا گیا ہے تو فون اٹھانے والے افراد کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی موجود ہے یا نہیں۔

کمیشن نے پولیس کے تفتیشی طریقہ کار پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ خاندان قتل کا دعویٰ کر رہا ہے تو پولیس اس مؤقف کو تسلیم کیوں نہیں کر رہی اور اہم شواہد کے میمو بروقت کیوں نہیں بنائے گئے۔ اجلاس میں تفتیش اور شواہد سے متعلق مزید وضاحتیں بھی طلب کی گئیں۔

More News