کوہاٹ میں غیر قانونی مائننگ، اصل معاملہ کیا ہے؟
رپورٹ: سید عدنان
ضلع کوہاٹ میں غیر قانونی گولڈ مائننگ کا معاملہ سنگین سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر معدنیات ایکٹ کی خلاف ورزیوں پر کارروائی کے اختیارات انتظامی افسران کے پاس موجود ہیں تو غیر قانونی مائننگ کا سلسلہ اتنے عرصے سے کیسے جاری رہا؟
ڈپٹی کمشنر کے قافلے پر فائرنگ کے حالیہ واقعے نے معاملے کی سنگینی مزید بڑھا دی ہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ ڈپٹی کمشنر وہاں کس کارروائی کے لیے گئے تھے اور صورتحال فائرنگ تک کیسے پہنچی؟ واقعے کی شفاف تحقیقات ضروری ہیں تاکہ اصل حقائق سامنے آسکیں۔
ذرائع کے مطابق کوہاٹ میں غیر قانونی مائننگ کے خلاف 1800 سے زائد ایف آئی آرز درج ہوچکی ہیں، تاہم اب تک ان مقدمات میں مؤثر سزاؤں اور کیسز کے منطقی انجام سے متعلق واضح معلومات سامنے نہیں آسکیں۔ اگر یہ اعداد و شمار درست ہیں تو متعلقہ اداروں کو عوام کے سامنے جواب دینا چاہیے کہ اتنے مقدمات کے باوجود غیر قانونی مائننگ پر مکمل قابو کیوں نہیں پایا جاسکا۔
دوسری جانب بعض انتظامی افسران کے حوالے سے بھی مختلف الزامات اور سوالات سامنے آرہے ہیں۔ ایک سابق اسسٹنٹ کمشنر لاچی کے زیر استعمال مرسڈیز بینز جبکہ ایک اور سابق اسسٹنٹ کمشنر کے پاس موجود ریوو گاڑی کے ذرائع آمدن اور ملکیت سے متعلق سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے اور اگر کسی افسر کے اثاثوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے تو قانونی طریقہ کار کے مطابق اس کی چھان بین ہونی چاہیے۔
اسی طرح بعض سابق افسران کی مبینہ جائیدادوں سے متعلق گردش کرنے والی اطلاعات کی بھی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ محض الزامات کو حقیقت قرار دینا درست نہیں، تاہم ایسے سوالات کا جواب دینا بھی ضروری ہے تاکہ انتظامی نظام پر عوام کا اعتماد برقرار رہے۔
اصل معاملہ صرف ڈی سی قافلے پر فائرنگ نہیں، بلکہ غیر قانونی مائننگ، انتظامی نگرانی، درج مقدمات، مبینہ اثر و رسوخ اور اثاثوں سے متعلق اٹھنے والے سوالات کا مجموعہ ہے۔
مقامی آبادی مطالبہ کر رہی ہے کہ غیر قانونی مائننگ کے پورے نیٹ ورک کی شفاف تحقیقات کی جائیں، ذمہ دار عناصر خواہ کتنے ہی بااثر کیوں نہ ہوں، انہیں قانون کے مطابق سزا دی جائے اور صوبے کے معدنی وسائل کی لوٹ مار کا راستہ روکا جائے۔








