پی ٹی آئی کو احتجاجی سیاست سے نکل کر خیبرپختونخوا کے عوام کو جواب دینا ہوگا، طارق فضل چودھری
اسلام آباد: وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو احتجاجی سیاست سے نکل کر خیبرپختونخوا کے عوام کو صوبائی حکومت کی کارکردگی کا جواب دینا ہوگا۔ انہوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے واضح کر دیا ہے کہ معمولات زندگی میں خلل ڈالنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
ایکس پر جاری اپنے بیان میں ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے کہا کہ پی ٹی آئی کی سیاست کا محور احتجاج، دھرنے، مارچ اور سڑکوں کی سیاست بن چکا ہے۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا کے عوام نے پی ٹی آئی کو حکومت اس لیے دی تھی کہ صوبے میں انتظامی امور چلائے جائیں اور عوامی مسائل حل کیے جائیں، نہ کہ اسلام آباد کی جانب مارچ اور احتجاج کیے جائیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام حکومت سے تعلیم، صحت، روزگار، امن و امان، سڑکوں اور دیگر بنیادی مسائل کے حل کے بارے میں سوال کر رہے ہیں۔ عوام جاننا چاہتے ہیں کہ صوبے کی حکومت نے ان شعبوں میں کیا کارکردگی دکھائی ہے اور ان کے مسائل کب حل ہوں گے۔
طارق فضل چودھری نے کہا کہ عوام کا مینڈیٹ حکومت چلانے اور ان کی خدمت کرنے کے لیے ہوتا ہے، احتجاج کرنے کے لیے نہیں۔ ان کے بقول پی ٹی آئی کو اب احتجاجی سیاست سے باہر نکل کر خیبرپختونخوا کے عوام کو جواب دینا ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت سڑکوں پر احتجاج کے ذریعے نہیں بلکہ کارکردگی کے ذریعے چلائی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کو سیاسی سرگرمیوں کے بجائے اپنی توجہ عوامی مسائل کے حل اور حکمرانی بہتر بنانے پر مرکوز کرنی چاہیے۔
ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ معمولات زندگی متاثر ہونے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس لیے احتجاج اور سیاسی سرگرمیوں کے دوران عوام کے روزمرہ معاملات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
وفاقی وزیر کے بیان میں پی ٹی آئی کی احتجاجی حکمت عملی پر تنقید کرتے ہوئے صوبائی حکومت کی کارکردگی کو بھی سوالات کے کٹہرے میں کھڑا کیا گیا۔ انہوں نے زور دیا کہ خیبرپختونخوا میں عوامی مسائل کے حل، امن و امان کی بہتری، صحت و تعلیم کی سہولیات اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کو ترجیح دی جانی چاہیے۔








