پمز آتشزدگی میں فی الحال کسی مخصوص شخص کا مجرمانہ قصور ثابت نہیں ہوا: تحقیقاتی رپورٹ
اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کی نرسری میں 26 اگست کو لگنے والی آگ کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی نے واقعے کو ادارہ جاتی اور نظامی ناکامی قرار دے دیا، تاہم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فی الحال کسی مخصوص شخص کا مجرمانہ قصور ثابت نہیں ہوا۔
وزیراعظم کی ہدایت پر ہونے والی تحقیقات کے بعد جاری رپورٹ میں پمز انتظامیہ کی جانب سے معلوم خطرات اور سابقہ انتباہات کو مؤثر حفاظتی اقدامات میں تبدیل نہ کرنے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ کمیٹی کے مطابق واقعے کی سنگینی کے باوجود کسی ایک فرد کو براہ راست مجرمانہ طور پر ذمہ دار قرار دینے کے لیے اس وقت کافی شواہد موجود نہیں ہیں۔
تحقیقاتی کمیٹی نے بعض اہم معاملات میں مزید فوجداری تحقیقات کی سفارش کی ہے۔ ان میں اے سی یونٹ نمبر دو کی برقی تنصیب اور دیکھ بھال میں ممکنہ مجرمانہ کوتاہی، لازمی ہنگامی راستے میں رکاوٹ، سابقہ انتباہات کے باوجود بروقت کارروائی نہ کرنا اور بیرونی امداد طلب کرنے میں ممکنہ تاخیر شامل ہیں۔
سات ستمبر کو مکمل ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان عوامل کا تفصیلی جائزہ لے کر یہ تعین کیا جانا ضروری ہے کہ آیا کسی فرد یا متعلقہ ذمہ دار کے خلاف قانونی کارروائی بنتی ہے یا نہیں۔
کمیٹی نے مجرمانہ ذمہ داری کے تعین کے لیے متعدد عوامل کو اہم قرار دیا۔ رپورٹ کے مطابق کسی شخص کی ذمہ داری، خطرے سے اس کی آگاہی یا خطرے کی پیش بینی، کارروائی کرنے کا اختیار، اس کی جانب سے کیا گیا عمل یا ترک کیا گیا اقدام، غفلت کی شدت اور حفاظتی نظام کی ناکامی کو مدنظر رکھنا ہوگا۔
تحقیقاتی رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ آگ کے دوران ریسکیو کارروائیوں میں حصہ لینے والے اہلکاروں کو محض اس بنیاد پر ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جانا چاہیے کہ واقعے کے نتائج انتہائی تباہ کن تھے۔ کمیٹی کے مطابق جن اہلکاروں کا ردعمل شواہد سے ثابت ہوتا ہے اور جنہوں نے متاثرین کو بچانے کی کوشش کی، ان کی ذمہ داری کا تعین شواہد اور ان کے عملی کردار کی بنیاد پر کیا جانا چاہیے۔








