آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز نے فیول سبسڈی مسترد کر دی

آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز نے فیول سبسڈی مسترد کر دی

پاکستان میں مال بردار ٹرانسپورٹرز نے حکومت کی جانب سے اعلان کردہ فیول سبسڈی کو مسترد کرتے ہوئے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں براہِ راست کمی اور ٹیکسز و لیویز کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن کے صدر محمد اویس چوہدری کا کہنا ہے کہ مہنگے ڈیزل نے مال بردار ٹرانسپورٹ کے کاروبار کو شدید مالی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں گاڑیاں چلانا منافع کے بجائے مسلسل نقصان کا باعث بن رہا ہے، جبکہ بعض ٹرانسپورٹرز نے ایندھن کے بڑھتے اخراجات کے باعث اپنی گاڑیاں سڑکوں سے ہٹانا شروع کر دی ہیں۔

حکومت نے پٹرول کی بڑھتی قیمتوں سے عام صارفین کو ریلیف دینے کے لیے 75 ارب روپے کی ہدفی فیول سبسڈی کی منظوری دی ہے۔ اس سکیم کے تحت موٹر سائیکل، رکشہ اور چنگ چی مالکان کو ماہانہ زیادہ سے زیادہ 20 لیٹر پٹرول پر 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی، جبکہ 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان کو زیادہ سے زیادہ 30 لیٹر پٹرول پر یہی رعایت ملے گی۔

ٹرانسپورٹرز کا مؤقف ہے کہ یہ سکیم تجارتی مال بردار گاڑیوں کے لیے مؤثر ریلیف فراہم نہیں کرتی۔ محمد اویس چوہدری نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عارضی امدادی پیکجز کے بجائے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں براہِ راست کم کی جائیں اور ٹیکسز و لیویز میں کمی کی جائے۔

حالیہ دنوں میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس سے مال برداری کے اخراجات بھی بڑھ گئے ہیں۔ ٹرانسپورٹرز کے مطابق اگر ایندھن کی قیمتوں میں کمی نہ کی گئی تو اس کے اثرات مال برداری کے کرایوں اور مجموعی کاروباری سرگرمیوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

More News