ایڈورڈز کالج بورڈ آف گورنرز کی چیئرمین شپ، گورنر خیبرپختونخوا کی درخواست خارج

ایڈورڈز کالج بورڈ آف گورنرز کی چیئرمین شپ، گورنر خیبرپختونخوا کی درخواست خارج

پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے ایڈورڈز کالج کے بورڈ آف گورنرز کی چیئرمین شپ سے متعلق گورنر خیبرپختونخوا کی درخواست خارج کرتے ہوئے صوبائی حکومت کی جانب سے کی گئی قانون سازی کو برقرار رکھا ہے۔

گورنر خیبرپختونخوا کی درخواست کی سماعت پشاور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے کی، جس میں جسٹس وقار احمد اور جسٹس فرح جمشید شامل تھے۔ عدالت کے روبرو درخواست میں ایڈورڈز کالج کے بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین کی تقرری سے متعلق قانونی معاملہ زیر بحث آیا۔

درخواست گزار کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ 1974 کے قانون کے اعلامیے کے تحت ایڈورڈز کالج کے بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین گورنر خیبرپختونخوا ہونے چاہئیں۔ درخواست میں صوبائی حکومت کی جانب سے کی گئی قانون سازی اور اس کے نتیجے میں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی بطور چیئرمین تقرری کو چیلنج کیا گیا تھا۔

عدالت کو بتایا گیا کہ 14 اکتوبر 2025 کو صوبائی کابینہ نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کو ایڈورڈز کالج کے بورڈ آف گورنرز کا چیئرمین مقرر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ گورنر خیبرپختونخوا کی جانب سے صوبائی حکومت کے اس اقدام کے خلاف پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کیا گیا اور استدعا کی گئی کہ متعلقہ قانون سازی اور چیئرمین کی تقرری کو کالعدم قرار دیا جائے۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کے سامنے 1974 کے قانونی اعلامیے کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف پیش کیا کہ کالج کے بورڈ آف گورنرز کی چیئرمین شپ کے حوالے سے گورنر کا کردار قانونی طور پر متعین ہے۔ دوسری جانب صوبائی حکومت کی جانب سے کی گئی قانون سازی کے تحت چیئرمین شپ کے معاملے میں تبدیلی کی گئی تھی۔

سماعت کے بعد پشاور ہائیکورٹ نے گورنر خیبرپختونخوا کی درخواست مسترد کردی اور صوبائی حکومت کی جانب سے کی گئی قانون سازی کو درست قرار دیتے ہوئے برقرار رکھا۔

عدالت کے فیصلے کے بعد ایڈورڈز کالج کے بورڈ آف گورنرز کی چیئرمین شپ سے متعلق صوبائی حکومت کا مؤقف برقرار رہا ہے۔ اس فیصلے میں عدالت نے درخواست گزار کی جانب سے قانون سازی اور وزیر اعلیٰ کی بطور چیئرمین تقرری کو کالعدم قرار دینے کی استدعا منظور نہیں کی۔

ایڈورڈز کالج خیبرپختونخوا کے اہم تاریخی تعلیمی اداروں میں شمار ہوتا ہے اور اس کے انتظامی امور سے متعلق بورڈ آف گورنرز کا کردار اہم سمجھا جاتا ہے۔ چیئرمین شپ کے معاملے پر گورنر اور صوبائی حکومت کے درمیان قانونی اختلاف کے بعد یہ معاملہ پشاور ہائیکورٹ تک پہنچا تھا۔

More News