این سی سی آئی اے نے محمد رضوان سے کیا کیا تفصیلات مانگیں؟ سوال نامہ سامنے آگیا

این سی سی آئی اے نے محمد رضوان سے کیا کیا تفصیلات مانگیں؟ سوال نامہ سامنے آگیا

اسلام آباد: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے قومی کرکٹر محمد رضوان سے مبینہ جوئے کی انکوائری کے سلسلے میں متعدد ذاتی، مالی اور سفری تفصیلات طلب کرلی ہیں۔ ذرائع کے مطابق این سی سی آئی اے کی جانب سے محمد رضوان کو پانچ صفحات پر مشتمل سوال نامہ فراہم کیا گیا ہے، جس میں گزشتہ کئی برسوں سے متعلق مختلف معلومات اور دستاویزات طلب کی گئی ہیں۔

سوال نامے کے مطابق محمد رضوان سے ان کی ولدیت، تاریخ اور جائے پیدائش، اہلیہ کا نام اور بچوں سے متعلق تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ گزشتہ 10 سال کے دوران ان کے زیر استعمال رہنے والے فیس بک، ایکس (سابق ٹوئٹر)، انسٹاگرام اور دیگر سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی معلومات بھی فراہم کرنے کا کہا گیا ہے۔

این سی سی آئی اے نے کرکٹر سے گزشتہ پانچ سال کے دوران آمدن کے مختلف ذرائع کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں۔ ان میں تنخواہ، کرائے سے حاصل ہونے والی آمدن، کاروباری اور زرعی آمدن جبکہ بینک اکاؤنٹس میں موجود رقم پر حاصل ہونے والے منافع کی معلومات شامل ہیں۔

سوال نامے میں گزشتہ پانچ برس کے دوران کیے گئے گھریلو اخراجات اور بچوں کے تعلیمی اخراجات کی تفصیلات بھی شامل ہیں۔ اس کے ساتھ وراثتی جائیداد سے متعلق معلومات بھی طلب کی گئی ہیں اور یہ وضاحت مانگی گئی ہے کہ وراثتی جائیداد کس شخص سے منتقل ہوئی۔ اس حوالے سے ثبوت اور متعلقہ دستاویزات فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

این سی سی آئی اے نے محمد رضوان سے گزشتہ پانچ سال کے دوران جائیداد کی خرید و فروخت سے متعلق تفصیلات بھی مانگی ہیں۔ سوال نامے میں بین الاقوامی دوروں کی تعداد، ان کے دوران ہونے والے اخراجات اور بیرون ملک قیام کی مدت سے متعلق معلومات شامل ہیں۔ اندرون ملک سفر کی تفصیلات بھی فراہم کرنے کا کہا گیا ہے۔

اس کے علاوہ محمد رضوان سے گزشتہ پانچ سال کے تمام بینک اکاؤنٹس اور کریڈٹ کارڈز کی تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔ اگر کرکٹر نے کسی شخص یا ادارے سے قرض حاصل کیا ہو تو اس کی تفصیلات بھی فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

یہ سوال نامہ مبینہ جوئے سے متعلق انکوائری کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ تاہم فراہم کردہ معلومات میں محمد رضوان کی جانب سے سوال نامے کے نکات پر کوئی تفصیلی مؤقف شامل نہیں ہے۔ انکوائری مکمل ہونے کے بعد ہی معاملے سے متعلق مزید حقائق سامنے آسکیں گے۔

More News