خیبر پختونخوا کو این ایف سی سے انسداد دہشتگردی کیلئے حصہ ملتا ہے، عطا تارڑ

خیبر پختونخوا کو این ایف سی سے انسداد دہشتگردی کیلئے حصہ ملتا ہے، عطا تارڑ

پشاور: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ساڑھے 12 سال سے ایک ہی حکومت ہے، اس کے باوجود صوبے میں تعمیر و ترقی پر مطلوبہ توجہ نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کو امن و امان اور ترقی کے شعبوں میں اپنی کارکردگی کے حوالے سے جواب دینا ہوگا۔

پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا کے عوام، پولیس، صحافیوں اور دیگر شہریوں نے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کوہاٹ واقعے کے زخمیوں اور شہدا کے لواحقین سے ملاقات کا بھی ذکر کیا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبر پختونخوا کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت انسداد دہشتگردی کے لیے اضافی حصہ دیا جاتا ہے۔ 7ویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت خیبر پختونخوا کے لیے قابل تقسیم محاصل میں 1 فیصد اضافی حصہ جنگِ دہشتگردی کے اخراجات کے لیے مختص کیا گیا تھا۔ وزارت خزانہ کی ایک مانیٹرنگ رپورٹ کے مطابق جولائی تا دسمبر 2022 کے دوران خیبر پختونخوا کو اس مد میں 31.593 ارب روپے منتقل کیے گئے تھے۔

عطا تارڑ نے سوال اٹھایا کہ امن و امان کے لیے مختص وسائل کہاں خرچ کیے گئے۔ انہوں نے صوبائی حکومت پر زور دیا کہ وہ دہشتگردی کے ساتھ ساتھ تعلیم، صحت اور عوامی فلاح کے شعبوں پر بھی توجہ دے۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں سرکاری وسائل عوام کی خدمت کے لیے ہیں، احتجاجوں کے لیے نہیں، جبکہ حکومت امن و امان میں خلل ڈالنے کی اجازت نہیں دے گی۔ اس حوالے سے ان کا بیان بھی سامنے آیا کہ کسی پرتشدد گروہ کو اسلام آباد کی جانب مارچ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

وفاقی وزیر نے پشاور پریس کلب کے صحافیوں کے لیے ہیلتھ انشورنس کی ضرورت پر بھی زور دیا اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں شہید ہونے والے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کا ڈیٹا بیس تیار کرنے کا اعلان کیا۔ ان کے مطابق ریڈیو پاکستان پشاور کی عمارت بھی صحافیوں کے لیے دوبارہ دستیاب کردی گئی ہے۔

More News