پنجاب کے سرکاری سکولوں کیلئے نئے نصاب کی باضابطہ منظوری
پنجاب کے سرکاری سکولوں میں تعلیمی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے نئے نصاب کی باضابطہ منظوری دے دی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت تعلیمی اصلاحات سے متعلق خصوصی اجلاس میں نئے نصاب اور مختلف تعلیمی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ذیلی ادارے پیکٹا کی جانب سے نئے نصاب کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ نئے نصاب کے تحت نصابی کتب کا بوجھ 25 فیصد کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ طلبہ میں رٹے کے رجحان کی حوصلہ شکنی اور بنیادی تعلیمی صلاحیتوں کو بہتر بنانے پر توجہ دی جائے گی۔
نئے نصاب میں انگلش، میتھ، سوشل سٹڈیز، اردو اور ارلی چائلڈ ہوڈ کریکولم کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ہر نصابی کتاب میں کیو آر کوڈ شامل کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے، جسے سکین کرنے کے بعد طلبہ متعلقہ موضوع سے متعلق ویڈیو سبق تک رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس اقدام کا مقصد روایتی تعلیم کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی کو بھی تعلیمی عمل کا حصہ بنانا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے پہلی جماعت سے بارہویں جماعت تک مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کا نصاب تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے اے آئی نصاب کے ساتھ سکولوں میں جدید لیبارٹریز کے قیام پر بھی توجہ دینے کی ہدایت کی، جبکہ نئی نصابی کتب کی پرنٹنگ مارچ سے قبل مکمل کرنے کا حکم دیا۔
اجلاس میں اساتذہ کی ذہنی صحت سے متعلق تربیت شروع کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ ہر ضلع میں وزیٹنگ فیکلٹی سائیکالوجسٹ تعینات کرنے کی تجویز کا جائزہ لیا گیا، جبکہ طلبہ کے لیے آن لائن کونسلنگ کی سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی۔
سکولوں میں جسمانی سزا کے خاتمے کے لیے قانون سازی پر بھی اتفاق کیا گیا۔ جسمانی سزا کے متبادل کے طور پر کلاس رومز میں ڈسپلن کارنر قائم کرنے کی تجویز زیر غور آئی۔ اس کے علاوہ ہفتے کا ایک دن اساتذہ کی تربیت کے لیے مختص کرنے پر اتفاق کیا گیا، جبکہ نصابی کتب کے مصنفین خود اساتذہ کی تربیت کریں گے۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ پرائمری سکولوں پر خصوصی توجہ دے کر بچوں کی تعلیمی بنیاد مضبوط بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے سکولوں میں ڈیجیٹل لٹریسی بڑھانے اور دستیاب وسائل کے مؤثر استعمال پر زور دیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ 12 اضلاع کی 31 تحصیلوں میں 35 ہزار اساتذہ کی انگلش لرننگ مکمل کی جا چکی ہے۔







