وزیراعلیٰ اور ڈی پی اوز اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی،پولیس افسر نے وزرا اور ایم پی ایز کی مبینہ مداخلت کا بھانڈا پھوڑ دیا
پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور ضلعی پولیس افسران (ڈی پی اوز) کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی، جہاں گریڈ 18 کے ایک پولیس افسر نے صوبائی وزرا اور اراکین اسمبلی کی مبینہ مداخلت پر وزیراعلیٰ کے سامنے تحفظات کا اظہار کیا۔
ذرائع کے مطابق پولیس افسر نے وزیراعلیٰ سے کہا کہ پولیس اہلکار کسی کے غیر قانونی احکامات پر عمل نہیں کرتے، تاہم بعض صوبائی وزرا اور اراکین اسمبلی کی جانب سے غیر قانونی کاموں کے لیے دباؤ ڈالا جاتا ہے۔
پولیس افسر کے مطابق کبھی پٹرول فراہم کرنے، کبھی کسی شخص کو اٹھانے اور کبھی گولڈ مائننگ کے معاملات میں مخصوص اقدامات کے لیے دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ نے افسر سے متعلقہ صوبائی وزیر یا رکن اسمبلی کا نام پوچھا، جس پر آئی جی خیبرپختونخوا نے گفتگو میں مداخلت کرتے ہوئے معاملے پر وضاحت پیش کی۔
اجلاس میں ہونے والی گفتگو سے پولیس افسران اور صوبائی حکومت کے بعض نمائندوں کے درمیان مبینہ سیاسی و انتظامی مداخلت کے حوالے سے اختلافات سامنے آئے۔
ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ بعض ڈی پی اوز اجلاس میں شریک نہیں ہوئے، تاہم ان کی عدم شرکت کی وجوہات کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔
واضح رہے کہ اجلاس میں سامنے آنے والے الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی اور متعلقہ وزرا یا اراکین اسمبلی کا مؤقف بھی سامنے نہیں آیا۔







