خیبر: ملاگوری واقعے پر ڈی پی او معطل، سی سی پی او کلوز، الگ الگ انکوائری کا فیصلہ

خیبر: ملاگوری واقعے پر ڈی پی او معطل، سی سی پی او کلوز، الگ الگ انکوائری کا فیصلہ

خیبر: ملاگوری واقعے کے معاملے پر خیبرپختونخوا حکومت نے اہم انتظامی اور قانونی اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے پولیس ایکٹ 2017 کے تحت صوابدیدی اختیارات استعمال کرتے ہوئے ڈی پی او خیبر کو فوری طور پر معطل جبکہ سی سی پی او کو کلوز کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

جمرود تحصیل میں جاری جرگے سے اظہار خیال کرتے ہوئے رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی نے بتایا کہ ملاگوری واقعے کے حوالے سے حکومت کی جانب سے دونوں واقعات کی الگ الگ انکوائری کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق تحقیقات کا مقصد واقعات کی اصل حقیقت سامنے لانا اور ذمہ دار افراد کا تعین کرنا ہے۔

ملاگوری واقعے میں ایس ایچ او ریاض حسین کی شہادت جبکہ پولیس حراست میں جاں بحق ہونے والے دو افراد کے معاملے کی الگ الگ تحقیقات کی جائیں گی۔ اس مقصد کے لیے دو الگ انکوائری کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی، جو اپنے اپنے واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیں گی۔

رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی کے مطابق انکوائری کمیٹیاں واقعات سے متعلق دستیاب شواہد، حالات اور دیگر متعلقہ معاملات کا جائزہ لے کر اپنی رپورٹس مرتب کریں گی۔ انکوائری کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ دونوں واقعات کس طرح پیش آئے اور ان میں کون سے عوامل کارفرما تھے۔

حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ انکوائری کمیٹیوں کی رپورٹس کی روشنی میں ذمہ دار قرار دیے جانے والے افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ حکام نے انکوائری کے ذریعے حقائق عوام کے سامنے لانے کا بھی اعلان کیا ہے۔

اس حوالے سے جمرود میں جرگہ جاری ہے، جس میں علاقے کے مشران، حکام اور متاثرہ خاندانوں کے افراد شریک ہیں۔ جرگے میں ایم این اے اقبال آفریدی، ڈپٹی کمشنر خیبر شاہد علی، اسسٹنٹ کمشنر جمرود سلمان ہستم، ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر جمرود نسیم اللہ شاہ، سابق رکن صوبائی اسمبلی شفیق شیر آفریدی، ملک نصیر احمد کوکی خیل اور ملک صلاح الدین کوکی خیل سمیت دیگر افراد موجود ہیں۔

جرگے کے دوران ملاگوری واقعے، پولیس اہلکار کی شہادت اور پولیس حراست میں ہونے والی اموات سے متعلق امور پر مشاورت جاری ہے۔ مقامی مشران اور متاثرہ خاندانوں کی جانب سے بھی اپنے تحفظات اور مطالبات پیش کیے جا رہے ہیں۔

حکام کے مطابق انکوائری مکمل ہونے کے بعد رپورٹس کی بنیاد پر آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے ذریعے واقعات کے حقائق سامنے لائے جائیں گے اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

More News