لاہور میں اے ٹی ایم سے چھیڑچھاڑ کے ذریعے شہریوں کے اکاؤنٹس سے لاکھوں روپے غائب
لاہور میں بینک اے ٹی ایمز سے مبینہ چھیڑچھاڑ کے ذریعے شہریوں کے اکاؤنٹس سے لاکھوں روپے نکالنے کا انکشاف ہوا ہے۔ سامنے آنے والی معلومات کے مطابق میٹرک تک تعلیم رکھنے والے نوجوانوں پر مشتمل ایک مبینہ گینگ نے اے ٹی ایم مشینوں کو نشانہ بناتے ہوئے درجنوں وارداتیں کیں۔
ذرائع کے مطابق ملزمان نے کسی پیچیدہ سافٹ ویئر یا بینکنگ سسٹم کو ہیک کرنے کے بجائے اے ٹی ایم مشینوں کے ساتھ معمولی نوعیت کی چھیڑچھاڑ کو وارداتوں کے لیے استعمال کیا۔ اس طریقے کے نتیجے میں متعدد شہریوں کے بینک اکاؤنٹس سے رقم غائب ہونے کی شکایات سامنے آئیں۔
واقعے نے اے ٹی ایم مشینوں کی سکیورٹی اور بینکنگ نظام کے تحفظ سے متعلق سوالات بھی اٹھا دیے ہیں۔ شہریوں کے لیے اے ٹی ایم استعمال کرتے وقت احتیاط کرنا مزید ضروری ہو گیا ہے، خصوصاً ایسی مشینوں پر جہاں کوئی غیر معمولی صورتحال، مشکوک ڈیوائس یا مشین کے حصے میں تبدیلی محسوس ہو۔
رپورٹ کے مطابق مبینہ گینگ نے لاہور کے مختلف علاقوں میں ایک کے بعد ایک وارداتیں کیں اور شہریوں کو مالی نقصان پہنچایا۔ پولیس کی جانب سے واقعے کی تحقیقات اور ملزمان کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے جبکہ وارداتوں کے طریقہ کار اور متاثرہ شہریوں کی تعداد سے متعلق مزید تفصیلات بھی سامنے آنے کا امکان ہے۔
ماہرین کے مطابق بینک صارفین کو چاہیے کہ اے ٹی ایم سے رقم نکالتے وقت مشین کے اردگرد موجود غیر معمولی چیزوں پر نظر رکھیں۔ کسی مشکوک سرگرمی کی صورت میں فوری طور پر بینک اور متعلقہ اداروں کو اطلاع دینا ضروری ہے۔
صارفین کو اپنے موبائل بینکنگ الرٹس بھی فعال رکھنے چاہئیں تاکہ اکاؤنٹ سے ہونے والی کسی بھی غیر معمولی ٹرانزیکشن کا فوری علم ہو سکے۔ اسی طرح بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات، پن کوڈ اور دیگر حساس معلومات کسی غیر متعلقہ شخص کے ساتھ شیئر نہیں کرنی چاہئیں۔
لاہور میں سامنے آنے والے اس واقعے نے بینکوں کے لیے بھی اے ٹی ایم مشینوں کی سکیورٹی مزید مؤثر بنانے اور مشکوک سرگرمیوں کی بروقت نگرانی کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔ شہریوں سے بھی کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنے اکاؤنٹس اور اے ٹی ایم ٹرانزیکشنز پر مسلسل نظر رکھیں۔








