خیبرپختونخوا کو پاکستان کا ڈیجیٹل مرکز بنانے کا فیصلہ، 2030 کا ماسٹر پلان تیار!

خیبرپختونخوا کو پاکستان کا ڈیجیٹل مرکز بنانے کا فیصلہ، 2030 کا ماسٹر پلان تیار!

پشاور:خیبرپختونخوا کو جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کا مرکز بنانے کے لیے اہم پیش رفت سامنے آگئی۔ خیبرپختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ نے صوبے کو پاکستان کا ڈیجیٹل مرکز بنانے کے وژن کے تحت 2030 تک کا جامع منصوبہ پیش کر دیا۔

اجلاس کی صدارت ممبر ایڈوائزری کونسل برائے توانائی و برقیات عثمان سیف اللہ خان نے کی، جس میں بورڈ حکام نے ادارے کے 2011 سے اب تک کے سفر، شفاف طرز حکمرانی، جدید برقی خدمات، عوامی شمولیت، نوجوانوں کی تربیت اور کاروباری ترقی کے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔

اجلاس میں مصنوعی ذہانت پر مبنی متعدد اہم منصوبوں کا جائزہ لیا گیا، جن میں سرکاری خط و کتابت اور دستاویزات کی تیاری کے لیے زمانگ جی پی ٹی، شہریوں کی رہنمائی کے لیے ہیلو کے پی معاون، دستک مکالماتی نظام، عمارتوں کے نقشوں کی خودکار منظوری اور جنگلات کے تحفظ کے لیے جدید نظام شامل ہیں۔

حکام کے مطابق سرکاری ملازمین کی تکنیکی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے خصوصی تربیتی پروگرام بھی شروع کیا جا رہا ہے۔

مستقبل کے منصوبوں میں صوبے کا اپنا مصنوعی ذہانت کا تعلیمی ادارہ قائم کرنا، مقامی کمپیوٹنگ نظام متعارف کرانا، جدید مصنوعی ذہانت مرکز اور مقامی زبانوں کے تحفظ کے لیے خودمختار معلوماتی مرکز قائم کرنا شامل ہے۔

اس کے علاوہ نوجوانوں اور نئے کاروباری اداروں کی حوصلہ افزائی کے لیے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں جدت اور تخلیقی صلاحیتوں کے فروغ کا مقابلہ 2026 منعقد کرنے کا منصوبہ بھی پیش کیا گیا۔

اجلاس کے اختتام پر عثمان سیف اللہ خان نے خیبرپختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے مرکزی دفتر، جدت و تحقیق کے مرکز اور عام شہریوں کے لیے جدید ڈیجیٹل سہولیات کے منصوبوں پر کام مزید تیز کرنے کی ہدایت کی۔

 

More News