قومی اسمبلی میں اہم بلز کی منظوری، حکومتی اتحادی جماعتیں متصادم
اسلام آباد: قومی اسمبلی کے اجلاس میں متعدد اہم قانون سازی کی منظوری دی گئی، جس کی صدارت ڈپٹی اسپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ نے کی۔
اجلاس کے دوران ایوان نے مجموعہ فوجداری ترمیمی بل 2025، پاکستان کے نام نشانات کے غیر قانونی استعمال سے متعلق ترمیمی بل 2025، اور لازمی تھیلیسیمیا اسکریننگ بل 2025 کو منظور کیا۔ لازمی تھیلیسیمیا اسکریننگ بل کے مطابق شادی سے قبل میاں بیوی کے لیے تھیلیسیمیا ٹیسٹ لازمی قرار دیا گیا ہے، اور نکاح خواں کے لیے شرط رکھی گئی ہے کہ ٹیسٹ کے بغیر نکاح رجسٹر کرنے پر لائسنس منسوخ اور جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
یہ بل پیپلز پارٹی کی رکن ڈاکٹر شرمیلا فاروقی نے پیش کیا، جبکہ جے یو آئی کی رکن نعیمہ کشور کی ترمیم مسترد کر دی گئی۔ اسی اجلاس میں سول ملازمین ترمیمی بل 2024 بھی منظور کیا گیا، جسے پیپلز پارٹی کی رکن شازیہ مری نے پیش کیا۔
اجلاس کے دوران حکومتی اتحادی جماعتوں کے درمیان اختلافات بھی سامنے آئے۔ پیپلز پارٹی کی رکن شازیہ مری نے جے یو آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے بلز پر خاموشی اختیار کی جاتی ہے، جبکہ ارکان کے ذاتی بلز کی مخالفت کی جا رہی ہے۔ جے یو آئی کی رکن عالیہ کامران نے جواب میں کہا کہ پیپلز پارٹی کے بلز پر حکومت سے مذاکرات ہوتے ہیں تو یہ کہاں ہوتے ہیں۔
ایم کیو ایم کے رکن خواجہ اظہار الحسن نے سول ملازمین بل کو آئین کے اصول کے خلاف قرار دیا اور کہا کہ پہلے ہی کوٹہ سسٹم میں مسائل موجود ہیں، اور بل میں مزید کوٹے شامل کیے جا رہے ہیں۔ بعد ازاں وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی تجاویز پر بل کو مزید جائزے کے لیے متعلقہ کمیٹی بھیج دیا گیا۔
اجلاس میں نصاب تعلیم، درسی کتب اور تعلیمی معیارات کے لیے وفاقی نگرانی سے متعلق ترمیمی بل 2026 کو بھی منظور کیا گیا۔
اس دوران حکومتی اتحادی جماعتوں کے درمیان کشیدگی بھی دیکھی گئی جب پیپلز پارٹی نے ایم کیو ایم کے بل کی مخالفت کی۔ نوید قمر نے بل کی منظوری کے خلاف مؤقف اپنایا، جبکہ خواجہ اظہار الحسن نے مؤقف دیا کہ بل کمیٹی سے منظور ہو چکا ہے۔ اس پر ڈپٹی اسپیکر نے بل کی منظوری مؤخر کر دی، جس پر ایم کیو ایم کے ارکان نے احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کر دیا۔
اجلاس میں اپوزیشن نے بھی حکومت پر تنقید کی۔ رکن جنید اکبر خان نے کہا کہ ایران اور سعودی عرب کے معاملات میں ایوان کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، اور دفاعی معاہدے عوام کے ووٹوں کے بغیر کیے گئے۔ پیپلز پارٹی کے رکن فتح اللہ خان نے ڈی آئی خان کے مسائل پر بجٹ کے عدم حل پر احتجاج کا اعلان کیا اور کہا کہ اگر مسائل حل نہ کیے گئے تو بھوک ہڑتال کریں گے۔








