خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کا فیصلہ، وفاقی کابینہ کی منظوری

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کا فیصلہ، وفاقی کابینہ کی منظوری

اسلام آباد: خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کا معاملہ وفاقی حکومت کی جانب سے اہم آئینی اقدام کے طور پر سامنے آیا ہے۔ وفاقی حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کے درمیان اس معاملے پر اتفاق رائے کی اطلاعات ہیں، جبکہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اس حوالے سے منظوری کا معاملہ زیر غور آنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف اور صدر مملکت آصف علی زرداری کے درمیان ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال اور صوبائی حکومت کے ساتھ وفاق کے اختلافات بھی اہم موضوعات میں شامل ہیں۔

وفاقی حکومت کی جانب سے ممکنہ آئینی اقدامات پر غور ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے جب صوبے میں دہشت گردی کے واقعات اور سیاسی کشیدگی کے باعث صورتحال توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے مؤقف اختیار کیا جاتا رہا ہے کہ صوبے میں امن و امان کی بہتری اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے لیے مؤثر حکمت عملی ضروری ہے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور پاکستان تحریک انصاف کی قیادت ممکنہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی مخالفت کر رہی ہے۔ پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ صوبے میں عوامی مینڈیٹ اور آئینی حقوق کا تحفظ کیا جانا چاہیے۔ پارٹی قیادت نے ایسے کسی بھی اقدام کے خلاف سیاسی ردعمل دینے کا عندیہ بھی دیا ہے۔

آئین پاکستان کے آرٹیکل 232 میں ہنگامی حالت کے نفاذ سے متعلق طریقہ کار درج ہے، جبکہ آرٹیکل 234 صوبے میں آئینی نظام چلانے میں ناکامی کی صورت میں گورنر راج سے متعلق ہے۔ دونوں اقدامات کے لیے متعلقہ آئینی تقاضوں کی تکمیل ضروری ہے۔

اس معاملے پر سیاسی رابطوں اور مشاورت کے باوجود وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان اختلافات برقرار ہیں۔ آئندہ پیش رفت کا انحصار وفاقی حکومت کے باضابطہ اعلان، متعلقہ آئینی کارروائی اور پارلیمان میں ہونے والی پیش رفت پر ہوگا۔

اہم وضاحت: دستیاب تازہ اطلاعات میں وفاقی کابینہ کی حتمی منظوری کی باضابطہ تصدیق نہیں ملی؛ اس لیے اشاعت سے قبل منظوری کی خبر کی تصدیق ضروری ہے۔

More News