2011 سے 2024 کے دوران خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے 2,911 واقعات ہوئے، اعظم نذیر تارڑ

2011 سے 2024 کے دوران خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے 2,911 واقعات ہوئے، اعظم نذیر تارڑ

اسلام آباد: وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ 2011 سے 2024 کے دوران خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے 2,911 واقعات پیش آئے۔

اعظم نذیر تارڑ کے بیان کے مطابق یہ اعداد و شمار صوبے میں دہشت گردی کے طویل المدتی چیلنج کی نشاندہی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخوا گزشتہ کئی برسوں سے دہشت گردی اور بدامنی سے متاثر رہا ہے، جس کے باعث عوام، سکیورٹی اداروں اور مقامی آبادیوں کو مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

دہشت گردی کے واقعات نے صوبے میں امن و امان، شہریوں کی روزمرہ زندگی اور ترقیاتی سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے۔ ان حالات میں سکیورٹی اداروں نے امن کی بحالی کے لیے مختلف کارروائیاں بھی کی ہیں۔

خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات کے حوالے سے سامنے آنے والے اعداد و شمار صوبے کی سکیورٹی صورتحال اور اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مؤثر اقدامات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔

تاہم، ان واقعات کی مزید تفصیلات، سالانہ تقسیم اور جانی نقصان سے متعلق معلومات بیان میں فراہم نہیں کی گئیں۔

More News