خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں تقریباً 200 فیصد اضافہ ہوا، اعظم نذیر تارڑ

خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں تقریباً 200 فیصد اضافہ ہوا، اعظم نذیر تارڑ

اسلام آباد: وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں تقریباً 200 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو صوبے کی سکیورٹی صورتحال سے متعلق ایک اہم معاملہ ہے۔

اعظم نذیر تارڑ کے بیان کے مطابق خیبرپختونخوا طویل عرصے سے دہشت گردی کے چیلنج کا سامنا کر رہا ہے۔ صوبے میں دہشت گردی کے واقعات نے امن و امان کی صورتحال کو متاثر کیا ہے، جبکہ شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کو بھی مختلف خطرات کا سامنا رہا ہے۔

خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے تناظر میں امن و امان کی بحالی، شہریوں کے تحفظ اور سکیورٹی اقدامات کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی اور متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون کو اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔

تاہم، دہشت گردی کے واقعات میں تقریباً 200 فیصد اضافے کے حوالے سے موازنہ کیے گئے سالوں اور اعداد و شمار کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ اس لیے اضافے کی شرح کے مکمل تناظر کو سمجھنے کے لیے متعلقہ سرکاری اعداد و شمار اہم ہوں گے۔

More News