سہیل آفریدی بازیابی کیس چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ کو ارسال، لارجر بینچ تشکیل دینے کی استدعا

سہیل آفریدی بازیابی کیس چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ کو ارسال، لارجر بینچ تشکیل دینے کی استدعا

پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کا معاملہ چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ کو ارسال کرتے ہوئے لارجر بینچ تشکیل دینے کی استدعا کر دی ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے ہیں کہ وزیر اعلیٰ غائب ہیں اور محکمہ داخلہ کو ان کے بارے میں تمام معلومات ہونی چاہییں۔

سہیل آفریدی کی بازیابی کے لیے ان کے بھائی محمد عامر کی جانب سے دائر آئینی درخواست پر جسٹس ارشد علی اور جسٹس فہیم ولی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سماعت کی۔ اس موقع پر ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اور درخواست گزار کے وکیل بشیر وزیر ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔

درخواست گزار کے مطابق 11 اکتوبر کو وزیر اعلیٰ ہاؤس سے مسلح اور نقاب پوش افراد نے سہیل آفریدی کو مبینہ طور پر اغوا کیا تھا۔ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ انہیں بازیاب کرا کے عدالت میں پیش کیا جائے، واقعے کی تحقیقات کرائی جائیں اور سی سی ٹی وی فوٹیج سمیت تمام متعلقہ ریکارڈ محفوظ کرنے کا حکم دیا جائے۔

سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت عدالت کو اختیار حاصل ہے کہ وہ سابق وزیر اعلیٰ اور سابق اسپیکر صوبائی اسمبلی کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے۔ وکیل کے مطابق گورنر سمیت بعض حکام میڈیا پر سہیل آفریدی کے حفاظتی تحویل میں ہونے کا اعتراف کر چکے ہیں، لہٰذا آئی جی پولیس کو ان کی عدالت میں پیشی کا حکم دیا جائے۔

وکیل نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ صوبائی اسمبلی سے منظور شدہ قانون کے تحت کسی رکن اسمبلی کو مخصوص قانونی تقاضے پورے کیے بغیر گرفتار نہیں کیا جا سکتا، جبکہ اسپیکر سے متعلق بھی قانونی تحفظ موجود ہے۔

دوران سماعت جسٹس ارشد علی نے ایڈووکیٹ جنرل سے استفسار کیا کہ عدالتی حکم پر عمل درآمد کیوں نہیں کیا گیا۔ ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ انہیں اسی روز رپورٹ موصول ہوئی ہے اور جواب جمع کرانے کے لیے مزید تین دن درکار ہیں۔ ان کے مطابق پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ڈپٹی کمشنرز سے بھی رپورٹس طلب کی گئی ہیں۔

جسٹس ارشد علی نے ریمارکس دیے کہ وزیر اعلیٰ غائب ہیں اور ہوم ڈیپارٹمنٹ کو ان کے بارے میں تمام معلومات ہونی چاہییں۔ عدالت نے حکومتی جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو جواب جمع کرانے کے لیے دس دن دیے گئے تھے، لیکن عدالتی حکم پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔

عدالت نے معاملے کو مفاد عامہ کا اہم مسئلہ قرار دیتے ہوئے کیس چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ کو ارسال کر دیا اور درخواستوں پر لارجر بینچ تشکیل دینے کی استدعا کی۔

More News