جرمنی میں لڑکی کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے والا ہیومنائڈ روبوٹ پولیس نے قبضے میں لے لیا
جرمنی کے شہر کولون میں ایک فاسٹ فوڈ آؤٹ لیٹ کے باہر پیش آنے والے مبینہ ہراسانی کے واقعے نے شہریوں کی توجہ حاصل کر لی، جہاں ایک ہیومنائڈ روبوٹ پر 16 سالہ لڑکی کے ساتھ نازیبا حرکات کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ واقعے کے بعد پولیس نے روبوٹ کو قبضے میں لے لیا۔
اطلاعات کے مطابق روبوٹ تقریباً چار فٹ لمبا تھا اور اس کا رنگ سرخ اور سنہری بتایا گیا ہے۔ یہ واقعہ فاسٹ فوڈ آؤٹ لیٹ کے باہر پیش آیا، جہاں روبوٹ کی مبینہ حرکات کے حوالے سے شکایت سامنے آنے پر پولیس نے کارروائی کی۔
ابتدائی معلومات کے مطابق متاثرہ لڑکی کی عمر 16 سال بتائی گئی ہے۔ روبوٹ کی جانب سے مبینہ طور پر ہراساں کیے جانے اور نازیبا حرکات کے الزام کے بعد معاملہ پولیس تک پہنچا، جس کے بعد متعلقہ روبوٹ کو تحویل میں لے لیا گیا۔
تاہم، دستیاب معلومات میں یہ واضح نہیں کہ روبوٹ کس کمپنی کی ملکیت تھا، اسے کس مقصد کے لیے وہاں رکھا گیا تھا اور آیا یہ کسی شخص کے کنٹرول میں تھا یا خودکار نظام کے تحت کام کر رہا تھا۔ اسی طرح واقعے کی مکمل تفصیلات، عینی شاہدین کے بیانات اور پولیس کی تفتیش کے نتائج بھی سامنے آنا باقی ہیں۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مختلف ممالک میں ریستورانوں، تجارتی مراکز اور عوامی مقامات پر روبوٹس کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ ہیومنائڈ روبوٹس کو صارفین کی رہنمائی، تفریح، تشہیر اور دیگر خدمات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم، عوامی مقامات پر ان کی موجودگی کے ساتھ ان کے محفوظ استعمال، نگرانی اور ذمہ داری کے تعین سے متعلق سوالات بھی اہمیت اختیار کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق روبوٹ سے متعلق کسی بھی واقعے کی تحقیقات میں یہ جاننا ضروری ہوتا ہے کہ اس کے نظام، پروگرامنگ یا انسانی کنٹرول میں کوئی خرابی تو موجود نہیں تھی۔ اگر کسی شخص نے روبوٹ کو جان بوجھ کر نامناسب حرکات کے لیے استعمال کیا ہو تو اس پہلو کا جائزہ بھی لیا جا سکتا ہے۔
فی الحال اس معاملے میں پولیس کی جانب سے روبوٹ قبضے میں لیے جانے کی اطلاع سامنے آئی ہے، جبکہ واقعے کی مکمل حقیقت اور ممکنہ قانونی کارروائی سے متعلق مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔








