بچوں کی لاشوں کے سوداگر، ایم این اے آصف خان، فضل الہیٰ اور اسکول مالک خان محمد کا رشوت کے بدلے معصوموں کی زندگیوں کا سودا
پشاور: دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گرنے کے افسوسناک واقعے کے بعد اسکول کی عمارت، حفاظتی انتظامات اور متعلقہ حکام کی ممکنہ غفلت کے حوالے سے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ اس واقعے کے تناظر میں اسکول کے مالک خان محمد اور مقامی سیاسی شخصیات، جن میں رکن قومی اسمبلی آصف خان اور سابق رکن صوبائی اسمبلی فضل الٰہی کے نام لیے جا رہے ہیں، کے کردار کی تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
مختلف الزامات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسکول کو مبینہ سیاسی سرپرستی حاصل تھی اور عمارت کے قانونی تقاضوں اور حفاظتی منظوریوں کو نظرانداز کیا گیا۔ تاہم سیاسی شخصیات یا اسکول مالک کے خلاف رشوت، غیر قانونی منظوریوں یا کسی مجرمانہ کردار سے متعلق ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
اسکول کی عمارت اور حفاظتی منظوریوں پر سوالات
حادثے کے بعد یہ جانچنے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے کہ اسکول کی عمارت کے لیے متعلقہ اجازت نامے جاری ہوئے تھے یا نہیں، عمارت کا انجینئرنگ معائنہ کیا گیا تھا یا نہیں اور بچوں کی حفاظت کے لیے مقررہ اقدامات پر عمل درآمد یقینی بنایا گیا تھا یا نہیں۔
اگر تحقیقات میں جعلی دستاویزات، غیر قانونی منظوریوں یا رشوت کے شواہد سامنے آتے ہیں تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جانی چاہیے۔
شفاف تحقیقات اور جواب دہی کا مطالبہ
واقعے نے نجی تعلیمی اداروں کی نگرانی، عمارتوں کی حفاظت اور متعلقہ محکموں کی ذمہ داریوں کے حوالے سے اہم سوالات پیدا کیے ہیں۔ شہریوں اور متاثرہ خاندانوں کے لیے ضروری ہے کہ انہیں تحقیقات کے نتائج سے آگاہ کیا جائے اور کسی بھی غفلت یا خلاف ورزی کی صورت میں ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔
اس سانحے کے بعد بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ تحقیقات غیر جانب دارانہ ہوں، الزامات کو شواہد کی بنیاد پر پرکھا جائے اور بچوں کی زندگیوں سے متعلق حفاظتی ضوابط پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔








