ایف بی آر کی بڑی تنظیمِ نو کی تیاری، ٹیکس نظام سے سیاسی مداخلت ختم کرنے پر زور
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی اصلاحات اور تنظیمِ نو کے لیے تازہ ہدایات کے بعد ادارے کو مکمل خودمختاری دینے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے، تاکہ ٹیکس نظام کو سیاسی مداخلت اور پسند و ناپسند سے بالاتر ہو کر مؤثر انداز میں چلایا جا سکے۔
اعلیٰ سرکاری ذرائع کے مطابق ایف بی آر کو خودمختاری دینے کا بنیادی مقصد ٹیکس وصولی کے نظام کو شفاف، مؤثر اور ہموار بنانا ہے۔ اس اقدام کے تحت ادارے کو ایسے انتظامی ماحول کی فراہمی پر توجہ دی جا رہی ہے جہاں فیصلے ذاتی ترجیحات یا غیر ضروری مداخلت کے بجائے قواعد و ضوابط کی بنیاد پر کیے جائیں۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ تین دہائیوں کے دوران ملک کے ٹیکس نظام میں متعدد اصلاحات متعارف کرائی گئیں اور اس حوالے سے تفصیلی رپورٹیں بھی تیار کی گئیں، تاہم ٹیکس وصولی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کا معاملہ بدستور اہمیت رکھتا ہے۔
ایف بی آر کی تنظیمِ نو کو پاکستان کے مالیاتی نظام میں بہتری اور قومی محصولات میں اضافے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ادارے کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے خودمختاری، انتظامی اصلاحات اور ٹیکس قوانین پر مؤثر عمل درآمد اہم عوامل سمجھے جاتے ہیں۔
پاکستان میں ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا، ٹیکس دہندگان کے لیے طریقہ کار آسان بنانا اور محصولات کی وصولی میں بہتری لانا معاشی پالیسی کے اہم اہداف میں شامل ہیں۔ ایف بی آر کی مجوزہ اصلاحات کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ادارے کو عملی طور پر کتنی خودمختاری ملتی ہے اور اصلاحاتی اقدامات کس حد تک نافذ کیے جاتے ہیں۔








